حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 390
۲۔۔مخاطب کے مافی الضمیر میں جو امور مستبعد معلوم ہوتے ہیں۔اس کی نفی کے لئے کلمہ لَا ہے۔یہی بَلَد ایک وقت ایک مقام ذی زرع تھا۔اور اب جس خدا نے اس کو بلد بنا دیا ہے۔اسی خدا کا منشاء ہے کہ ایک یتیم بے سروسامان کو بادشاہ بنا دے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء) ۳۔۔اور تُو شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ اس شہر میں مُحِلّ ہونیوالا ہے۔یعنی نزول کرنیوالا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء) تجھ کو اس شہر میں ذبح کر حلال سمجھا گیا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۸) ۴۔۔مکّہ کے امُّ القرٰی ہونے کی وجہ سے اہلِ مکّہ اپنے آپ کو اَوروں کا والد سمجھتے تھے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ گویا یوں فرماتے ہیں کہ ہم تو سب والدوں کے بھی والد ہیں۔بہتر نمونہ والد اور ولد کا حضرت ابراہیمؑ اور اسمٰعیل ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء) ۵۔۔اس چوتھی آیت میں یہ ظاہر فرمایا کہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جو شاہانہ شان و شوکت ملے وہ آپؐ کی محنتوں اور جانفشانیوں کا نتیجہ ہے اور کفّار کو جو جان و مال کی تباہی دیکھنی پڑی وہ ان کی الٹی محنتوں اور کوشوں کا نتیجہ ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء)