حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 388
سے افعال اور صفات کا رنگ اور حالت بدلتی رہتی ہے۔غور کرو مثلاً بیٹھنا ایک فعل ہے۔ایک آپ کا بیٹھنا ہے اور ایک کسی جانور کا بیٹھنا۔دیکھو اس بیٹھنے میں ایک جسم خاص کی ضرورت ہے۔مکان کی ضرورت ہے۔پھر کہا جاتا ہے کہ یہ بڑا ساہوکار تھا مگر اب بیٹھ گیا ہے۔دیکھو یہ بیٹھنا اور طرح کا ہے یا کہا جاتا ہے کہ آجکل ہند و انگلستان کے تخت پر ایدورڈ ہفتم بیٹھا ہے۔اس بیٹھنے میں ایڈورڈ سوتا ہو چلتا ہو۔کہیں کھڑا ہو۔بہر حال بیٹھا ہے۔…‘‘ اب اس سے بھی لطیف موصوف اور فاعل کا حال سُنو۔تمہارے دل میں اسلام کا بُغض بیٹھ گیا ہے تمہارے دل میں آریہ سماج کی محبت بیٹھ گئی ہے۔کیا محبت کوئی جسم ہے؟ نہیں۔اسی طرح آنا اور حرکت کرانا ایک صفت اور فعل ہے۔فلانا آدمی آیا۔یہ آنا ایک طرف۔ایک مکان کے چھوڑنے کو چاہتا ہے۔اور دوسری طرف ایک مکان کی طرف آنے کو۔سرور میرے دل میں آیا۔علم میرے قلب میں آیا۔مجھے سُکھ ملا۔اگر بولا جائے تو یہ لازم نہیں اتا۔کہ سرور اور علم اور سُکھ کوئی جسم ہے اور اس نے کوئی مکان ترک کیا اور سنو! تمہارے گُر و نے تو اپنی دُعاؤں میں الہٰی حرکت کو بھی مانا ہے۔دیکھو صفحہ ۴ ستیارتھ پرکاش ’’ اے پرمیشور جس جس مقام سے آپ دنیا کے بنانے اور پالنے کے لئے حرکت کریں اس اس مقام سے ہمارا خوف دور ہو‘‘ سنو! پال اگر پرمیشر حرکت کر سکتا ہے تو ملائکہ ( دیو) تو محدود ہوتے ہیں۔ان کا حرکت کرنا کیوں حیرت انگیز ہے۔اگر حرکت کے کوئی معنے سماج کر سکتی ہے اور رُوپک النکار میں اس کو لے سکتی ہے تو قرآن کریم میں مسلمان کیوں مجاز نہیں کیا جاتا۔اﷲ تعالیٰ اپنے مظاہر قدرت میں جلوہ گری کرتا ہے۔وہ حلول و اتحاد سے منزّہ وراء الور ء مطاہر قدرت میں اپنی قدرتوں طاقتوں بلکہ ذات سے جیسے اس کی لَیْسَ کَمِثْلِہٖ ذات اور انوپیئم کی شان ہے آتا ہے۔اور کہیں سے جاتا ہے۔کیا جیسے ودوان دھارمک کے ہردے میں آتا ہے ویسا ہی دُشٹ اناڑی کے ہردے میں بھی ہوتا ہے اور آتا ہے۔ہرگز نہیں۔بلکہ تمہارے ہاں تو پھاند کر بھی جاتا ہے۔پھر اتنا کی مشکل ہے۔یجروید اکتیسواں ادھیائے پہلے اشلوک میں لکھا ہے۔وہ سب جگت کو النگھ کر ٹھیرا ہے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۱۱۳۔۱۱۴) ۲۴۔ ۔