حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 387
ہوئے تھے۔طویل القد، بلند عمارتوں والے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۱۱۔کثرتِ لشکر اور ان کے خیموں اور خیموں کے لوازم کی وجہ سے ذِی الْانوْتنادِ فرعون کی صفت بیان ہوئی یا سزا جومیخہ اس کی عادت تھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۱۴۔۔ایسی سخت جابک جس سے خون بہنے لگے سوط کہلاتی ہے۔شاید ہماری زبان میں سونٹا اسی لفظ سے بگڑ کر بنا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۱۵۔۔مِرْصَاد: صید کے لئے گھات کی جگہ۔اﷲ تعالیٰ عالم الغیب و الشھادۃ ہے اس کو گھات یا تک اور نشانے کی ضرورت نہیں۔(بقرہ:۸۲) اس کی تفصیل ہے۔گناہوں کا حلقہ جب چاروں طرف سے پورا ہو جاتا ہے تو یہ نخچیر شکار ہو جاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۱۸۔۔یَتِیْمَ:کے لفظ سے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف اشارہ ہے۔عام یتیم بھی اس سے مراد ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ بہتر گھر وہ ہے جس میں یتیم کی عزّت کی جاوے۔اور بدتر گھر وہ ہے جس میں یتیم کو دکھ دیا جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۲۳۔۔دھرم پال کے اس اعتراض کے جواب میں کہ ’’ خدا کو آنے کی کیا ضرورت ہے‘‘ آپ نے تحریر فرمایا فعل ہے۔افعال اور صفات کا طریق کیا ہے۔یہ ہے کہ فاعل اور موصوف کے لحاظ