حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 386
سب کا خرج برداشت کر سکوں۔مسکینوں کے کھانے کی فکر کرو۔یہاں مدرسہ میں ایک طالبعلم آیا تھا۔ایک دن مجھ سے کہنے لگا۔کہ یہاں جھوت برا بولتے ہیں۔لنگرخانہ میں تو پچاس ساٹھ روپے ماہوار خرچ کرتے ہوں گے مگر باہر سے ہزاروں روپیہ منگواتے ہیں۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا مدرسہ میں کس قدر خرچ ہوتا ہے۔کہا دس روپے ماہوار اکیلے کا خرچ ہے۔آخر وہ یہاں سے چلا گیا۔تم نیک نمونہ بنو۔اگر غلطیاں ہوتی ہیں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتن سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّلِمِیْنَ پڑھو۔جناب الہٰی رحم فرمائیں گے۔۷۔۔کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ عاد کے ساتھ تمہارے خدا نے کیسا کیا۔عاد کا واقعہ ولادتِ آنحضرتؐ سے پیشتر واقع ہو چکا ہے۔ایسے موقعوں پر لفظ ’’ دیکھا‘‘ یہ معنی نہیں رکھتا کہ موجود حاضر ہو کر بایں چشم سر دیکھا بلکہ وہ واقعات جو مسلّم اور متداول لا ریب چلے آتے ہیں اور جن کی صداقت کو خلاف واقعہ چشم دید سے کچھ کم اعتقاد نہیں کرے۔لفظ’’دیکھا‘‘ سے تعبیر کئے جاتے ہیں۔اور یہ محاورہ ہر زبان کی عام بول چال میں پایا جاتا ہے۔مثلاً کہتے ہیں۔دیکھو مصر میں انگریز کیا کاروائی کر رہے ہیں۔دیکھو آئرلیند کے لوگ کیسا فساد مچارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اب یہ فقرات ہندوستان میں بیٹھا ہوا ایک شخص کہہ رہا ہے اس سے یہ مقصود نہیں کہ اس کے کلام کے مخاطبین ان آنکھوں سے مصر اور آئرلیند میں موجود ہو کر وہ کارروائی اور فساد دیکھ رہے ہیں۔لُغت میں رویت اور رأی کے معنے جن سے یَرٰی کا لفظ مشتق ہوا ہے۔غور کے قابل ہیں۔دیکھو قاموس اللغۃ اَلرُّؤْیَۃٌ النَّظَرُ بِالْعَیْنِ وَالْقَلْبِ ونالرَّأيُ الْاِعْتِقَادُ یعنی آنکھ سے دیکھنے اور دل سے دیکھنے اور رایٔ اعتقاد کرنے کو کہتے ہیں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۴۳) ۸۔۔ارمؔ یا تو عاد کے دادا عوصؔ کے باپ کا نام ہے۔یا ارمؔ ان کے شہر کا نام ہے۔دونوں مراد ہو سکتے ہیں یعنی اہلِ ارم۔یہ لوگ سام بن نوح کی اولاد سے تھے۔ھود علیہ السلام ان کی طرف مبعوث