حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 35
یہ عیب لگا دیں۔اور یہ بداعتقاد کریں کہ معاذ اﷲ فرشتے اور ملائکہ اﷲ تعالیٰ رحمن کی بیٹیاں ہیں۔مشرکو! دیکھا بُت پرستی نے تم کو کس کنوئیں میں گرایا۔ان کی اسی نادانی کا بیان ہے۔۔ ۔(النجم:۲۲،۲۳) کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں ہیں؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۰۰) ۳۸۔۔(وہ ابراہیم) جس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ صدق و وفا کا پُورا نمونہ دکھایا۔۴۰تا۴۲۔۔۔۔امتحان کے اصل معنی ہیں۔محنت کا لینا۔ایک دنیادار امتحان کے لئے اخذ امتحان کے جواب مثلاً دیکھتا ہے تو اس لئے کہ طالب العلم کی محنت کا اس کو پتہ لگ جائے اور محنت کا نتیجہ اس کو دے اور اﷲ تعالیٰ بھی امتحان لیتا ہے یعنی محنت کرانا چاہتا ہے۔سُستی کو ناپسند کرتا ہے۔ہاں علیم و خبیر ہے۔جب کوئی محنت کرتا جیسے کوئی محنت کرے۔ویسے ہی جنابِ الہٰی سے محنت کرنے کا اجر ملتا ہے ؎ گندم از گندم بروید جَو زِجَو از مکافاتب عمل غافل مشو اس امتحان کے معنوں کو ایک حکیم مسلمان نے نظم کیا ہے۔اور اسی سچے علم کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے ’’ اور انسان کو اس کی سعی کے سوا اور کوئی فائدہ نہیں ملیگا۔اور یہ پختہ بات ہے کہ اس کی سعی دیکھی جائے گی۔پھر اسی کے مطابق واقع اسے پورا بدلہ دیا جائے گا۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۷۳۔۷۴) ۴۳۔۔