حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 384 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 384

ہیں۔ان دلائل میں سے سب سے بڑی عظیم الشان بات جو اﷲ تعالیٰ نے اس سورہ کریمہ میں فرمائی ہے۔ہر ملک میں کوئی نہ کوئی قوم بڑی سخت ہوتی ہے۔جس شہر میں میرا پُرانا گھر تھا۔وہاں پر ایک سیّد کی زیارت ہے۔اس شہر میں ان کی قبر پرجا کر قسم کھانا بڑی قسم ہے۔اسی طرح بعض زمیندار جھوٹی قسم کھا لیتے ہیں۔مگر دودھ پوت کی قسم نہیں کھاتے۔اسی طرہ ہندوگائے کی دُم پکڑ کر قسم نہیں کھا سکتے۔غرض کہ ہر قوم اپنے ثبوت کے لئے کسی نہ کسی عظیم الشان قسم کو جڑھ بنائے بیٹھی ہے۔عرب کے لوگ ہر ایک جرم کا ارتکاب کر لیتے تھے۔لیکن مکّہ معظمہ کی تعظیم ان کے رگ و ریشہ میں بسی ہوئی تھی۔یہاں تک کہ جن ایّام میں مکّہ معظمہ میں آمد و رفت ہوتی تھی۔کیا مطلب۔ذی قعدہؔ۔ذی الحجہؔ اور جبؔ میں وہ اگر اپنے باپ کے قاتل پر بھی موقع پاتے تھے۔تو اس کو بھی قتل نہیں کرتے تھے۔تم جانتے ہو کہ جب شکاری آدمی کے سامنے شکار ا جاتا ہے۔تو اس کے ہوش و حواس اُڑ جاتے ہیں۔لیکن عرب میں حدودِ حرم کے اندر شکار ا جاتا تھا تو اس کو نہیں چھیڑتے تھے۔پھر دس راتیں حج کے دنوں کی بڑے چین و امن کا زمانہ ہوتا تھا۔ان دنوں میں بدمعاش لوگ بھی فساد اور شرارتیں نہیں کرتے تھے۔اﷲ تعالیف ان کو یاد دلاتا ہے کہ ان امن کے دنوں میں تم اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی باوجود قابو یافتہ ہونے کے قتل نہیں کرتے تھے۔تم اﷲ تعالیٰ کو یاد کرو کہ اب تم لوگ اﷲ کے رسولؐ کی مخالفت کو ان دنوں میں بھی نہیں چھوڑتے اور تم کو خبر نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کو یاد کرو کہ اب تم لوگ اﷲ کے رسولؐ کی مخالفت کو ان دنوں میں بھی نہیں چھوڑتے اور تم کو خبر نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے رسول جو عرب سے باہر آئے ہیں مثلاً مصر کے ملک میں فرعون تھا اس کے پاس رسول آیا یعنی فرعون کو سزا دی جو خدا کے رسول موسٰیؑ کے مقابلے میں تھا۔پھر ہم نے عاد اور ثمود کی اقوام کو سزائیں دیں جو ہمارے رسول کے مقابل کھڑی ہوئیں اور تم تو مکّہ میں اور پھر حج کے دنوں میں بھی شرارت کرتے ہو اور نہیں رُکتے تو تم ہی انصاف سے کہو۔کہ آیا تم سب سے زیادہ سزا کے مستحق ہو کہ نہیں؟ نیکی ہو یا بدی بلحاظ زمان و مکان کے اس میں فرق آجاتا ہے۔ایک شخص کا گرمی کے موسم میں کسی کو جنگل ریگستان میں ایک گلاس پانی کا دینا جبکہ وہ شدّت پیاس سے دم بہ لب ہو چکا ہو ایک شان رکھتا ہے مگر بارش کے دنوں میں دریا کے کنارہ پر کسی کو پانی کا ایک گلاس دینا وہ شان نہیں رکھتا۔یہ بات میں نے تم کو کیوں کہی۔تم میں کوئی رسول کریمؐ کے صحابہ مکہ میں تو بیٹھے ہوئے ہے نہیں۔مَیں تم کو سمجھانے کے لئے کھڑا ہو گیا۔یاد رکھو جو امن اور اصلاح کے زمانہ میں فساد اور سرارت کرتا ہے وہ سزا کا بہت ہی بڑا مستحق ہے۔میرا یہ اعتقاد ہے۔جہاں کوئی پاک تعلیم لاتا ہے۔جہاں لوگ سفر کر کے جاتے ہیں۔وہاں مکانوں کی تنگی۔کھانا۔سادہ ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ایسی مصیبتیں اٹھا کر جو لوگ یہاں آئے ہیں۔اور وہ رات دن قرآن سیکھتے ہیں۔یہاں اگر کوئی فساد کرے تو وہ اصلاح کا کیسا خطرناک دشمن ہے۔