حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 376

اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی کہ اﷲ تعالیٰ کو دانائے آشکار ا غیب جانے۔دیکھو مَیں اس مقام پر کھڑا ہوں۔یہ مقام چاہتا ہے کہ میں گند نہ بولوں۔بدی کی راہ نہ بتاؤں۔نیک باتیں جو مجھے آئیں تمہیں سنادوں۔ہاں ایک امر مخفی بھی ہے۔وہ یہ کہ میںاﷲتعالیٰ کے لئے کھڑا ہوں، یاریاء، سمعت و حرص کے لئے جیسا کہ کٍمیر میں واعظ کرتے ہیں۔گھنٹوں منبر پر کھڑے رہتے ہیں۔ایک شخص آکر کہتا ہے۔حضرت اب بس کرو۔جمعہ کا وقت تنگ ہو گیا۔وہ کہتے ہیں بس کیا خاک کریں۔ابھی تو دو آنے کے پیسے بھی نہیں ہوئے۔تب ایک شخص اٹھتا ہے اور چندہ کرتا ہے۔اور اس طرح اس سے رہائی حاصل کرتے ہیں۔اسی طرح تو کو کیا خبر میرے دل میں کیا درد ہے، اور کتنی تڑپ ہے۔دوسری طرف تم یہاں جمعہ کا خطبہ سننے اور نماز پڑھنے کے لئے آئے ہو مگر تمہارے دلوںکی کیا خبر کہ ان میں کیا ہے کیونکہ آخر تمہی میں سے میری مخالفتیں کرتے ہیں۔میری ہی نہیں۔میرے گھر تک کی بھی۔گونادان ہیں جو ایسا کہتے ہیں۔سنبھل کر کام کرو ایسا نہ ہو کہ خدا ناراض ہو جائے۔ایک جگہ اخٰٰیکو سر ّ کے مقابلہ میں رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰی وہاں منشاء باری تعالیٰ یہ ہے کہ مَیں ان خیالات کو بھی جانتا ہوں جو آج سے سال یا دو سال یا اس سے زیادہ مدّت بعد تمہارے اندر پیدا ہوں گے اور اب خود تمہیں بھی معلوم نہیں۔ایسے نگران علیم و خبیر۔لطیف و بصیر خدا سے ڈر جاؤ اور نافرمانی نہ کرو۔فَذَکِّرْ اَنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں اور اﷲ فرماتا ہے۔نصیحت کرتے رہو۔نصیحت ضرور سودمند ہوتی ہے میرا جی چاہتا ہے کہ تم باہر والوں کے لئے نمونہ بنو۔تمہارا لین دین۔تمہاری گفتار و رفتار۔تمہارا چل چلن ( تمہارا سرّ و علن) تمہارا اٹھنا بیٹھنا۔تمہارا کھانا پینا ایسا ہو کہ دوسرے لوگ بطور اسوہ حسنہ اسے قرار دیں میں افسوس کرتا ہوں کہ یہاں بدمعاملگی بھی ہوتی ہے۔بدزبانی بھی ہوتی ہے۔بد لگامی بھی ہوتی ہے اور اس سے مجھے رنج پہنچتا ہے۔تم اﷲ کو علیم و خبیر و بصیر مان کر اپنے آپ کو بدیوں سے روکو۔یہ بھی ایک قسم کی تسبیح ہے۔تم ایسا کرو گے تو دوسرے لوگوں کا ایمان بھی بڑھے گا۔اﷲ توفیق دے۔(الفضل ۲۳؍جنوری ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۲۔۱۳)