حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 375 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 375

پاس گیا تو مشنری نے انجیل دیدی۔کسی کو روپیہ دیدیا، کسی کی دعوت کر دی۔حد درجہ کی بے غیرتی ہے ان ظالموں نے ہمارے سب ہادیوں کو بُرا بھلا کہا۔تمام کتب الہٰیہ کو بُرا بھلا کہا۔جنابِ الہٰی کے اسماء و صفات کو بُرا کہا۔اسے سَمِیْعُ الدُّعَاء۔علم دینے والا نہ سمجھا۔پھر اخلاق والے بنے ہیں۔توبہ! توبہ! ان کے کفّارہ کا اُلّو ہی سیدھا نہیں ہوتا۔جب تک یہ تمام جہان کے راست بازوں کو اور تمام انسانوں کو گنہگار۔بدکار اور لعنتی نہ کہہ لیں۔ان میں خوش اخلاقی کہاں سے آ گئی۔ان حالات میں مومن کا فرض ہے کہ جناب الہٰی میں تسبیح کرے۔اس کے اسماء کی تسبیح میں کوشاں رہے۔ان کے انتخاب شدہ بندوں کی تسبیح کرے۔ان پر جو الزام لگائے جاتے ہیں۔جو عیوب ان کی طرف شریر منسوب کرتے ہیں۔ان کا دفاع و ذَبّ کرے اور سمجھائے کہ جنہیں میرا ربّ برگزیدہ کرے ، وہ بدکار اور لعنتی نہیں ہوتے۔ان کی تسبیح خدا کی تسبیح ہے۔یہ معنے ہیںسَبِّحْ اِسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی کے۔تمہارا خدا تو ایسا ہے کہ اس کی مخلوقات سے اس کی تسبیح و تقدیس عیاں ہے۔اُس نے خَلق کیا اور پھر تمہارے اندر نسلِ انسانی کو ایسا ٹھیک کیا۔کہ سب کچھ اس کے ماتحت کر دیا۔آگ، پانی، ہوا سب عناصر کو تمہارے قابو میں کر دیا۔پھر چونکہ سارے جہان نے اس سے کام لینا تھا اس لئے ہر مخلوق کو ایک ضابطہ و قانون کے اندر رکھا تاکہ انسان اس سے فائدہ اُٹھ سکے اور خدمت لے سکے۔مثلاً یہ عصا ہے میں اس سے ٹیک لگاتا ہوں۔یوں اگر بجائے ٹیک کا کام دینے کے یہ یکدم چھوٹا ہو جائے یا مجھے دبائے یا اپنی طرف کھینچ لے تو میرے کام نہیں آسکتا۔پس اس نے اپنی حکمتِ بالغہ سے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرّر کیا یعنی جس ترتیب سے وہ چیز مفید و بابرکت ہو سکتی ہے۔اُس ترتیب سے اُسے بنا دیا اور پھر انسانوں کو اس سے کام لینا سکھایا وَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی فَجَعَلَہٗ غُثَآئً احْرٰی پھر ان چیزوں پر غور کریں تو ان کا ایک حصّہ ردّی اور پھینک دینے کے قابل بھی ہوتا ہے یا ہو جاتا ہے۔مثلاً کھیتی ہے پہلے پھل دیتی ہے۔لوگ مزے سے کھاتے ہیں۔مگر اس کا ایک حصّہ جلا دینے کے قابل ہوتا ہے۔اسی طرح انسانوں میں سے جو لوگ اﷲ تعالیف کی نافرمانی کرتے ہیں اور انبیاء اور ان کی پاک تعلیم سے رُو گردانی کرتے ہیں وہ آگ میں جھونک دئے جائیں گے۔ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ پڑھاتا ہے اور وہ یاد رکھتا ہے جس قدر اﷲ چاہے اس میں سے بھول بھی جاتا ہے۔غرض اس نے اپنی پاک راہوں کو دکھانے کے لئے اپنی تعلیم بھیج دی ہے اور بتا دیا ہے کہ نیکی سیکھنے اور اس پر چلنے کا طریق یہ ہے۔