حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 374
ان کے تبرّے سُنتے سُنتے کچھ ایسے بے غیرت ہو جاتے ہیں کہ کہنے لگتے ہیں کہ ایسے صحابہ کو بُرا کہنا معمولی بات ہے۔حالانکہ ان کی بُرائی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوّت قدسیہ پر حملہ ہے جس نے ان کو تیار کیا۔اسی طرح مشنری عیسائی بڑی بد اخلاق قوم ہے۔کوئی خلق ان میں ہے ہی نہیں ایک شخص نے کہا۔ان کی تعلیم میں تو اخلاق ہے اور ایک نے کہا ان میں بڑا خلق ہے۔ایسا کہنے والے نادان ہیں ان کے ہاں ایک عقیدہ ہے۔نبی معصوم کا جس کے یہ معنے ہیں۔ایک ہی شخص دنیا میں ہر عیب سے پاک ہے۔باقی آدم سے لے کر اس وقت کے کل انسان گنہگار اور بدکار ہیں۔ان لوگوں نے یہاں تک شوخی سے کام لیا ہے کہ حصرت آدمؑ کے عیوب بیان کئے ہیں۔پھر حضرت نوحؑ کے، حضرت ابراہیمؑ کے، حصرت موسٰیؑ کے، الغرض جس قدر انبیاء اور راست باز پاک انسان گزرے ہیں ان کے ذمّہ چند عیوب لگائے ہیں۔پھر ہماری سرکار احمد مختار صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تو ان کو خاص نقار ہے اور دھت ہے ان کو گالیاں دینے کی۔باوجود اس گندہ دہنی کے پھر بھی ایسے لوگوں کو کوئی بُرے اخلاق والا کہتا ہے تو اس کی غیرتِ دینی پر افسوس۔ایک شخص تماہرے پاس آتا ہے اور تم کو آ کر کہتا ہے۔میاں تم برے اچھیت بڑے ایمان دار۔آیئے تشریف رکھئے، باپ تمہار برا ڈوم، بھڑوا، کنجرگ بڑا حرام زادہ، سؤر، ڈاکو، بدمعاش تھا۔تم برے اچھے آدمی ہو اور ساتھ ساتھ خاطرداری کرتا جائے تو کیا تم اس کے اخلاق کی تعریف کرو گے۔تمام جہاں کے ہادیوں کو جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ بیان کی جاتی ہے۔اور میرا تو اعتقاد ہے کہ ان کو کوئی گن نہیں سکتا۔بدکار گنہگار کہنے والا ایک شخص کی مزوّرانہ خاطرداری سے خوش اخلاق کہلا سکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کے برگزیدوں کی تو ہتک کرتے ہیں اور تم ان کی نرمی اور خوش اخلاقی کی تعریف کرو حد درجہ کی بے غیرتی ہے۔یہاں تک تو انہوں نے کہہ دیا کہ شریعت کی کتابیں لعنت ہیں۔پُرانی چادر ہیں۔ان کتابوں کو جو حضرت رب العزّت سے خلقت کی ہدایت کے لئے آئیں لعنت کہنا کسی خوش اخلاق کا کام ہو سکتا ہے۔دیکھو گلاتیوں کا خط کہ اس میں شریعت کو لعنت لکھتا ہے۔پھر خدا سے بھی نہیں ٹلے۔کہتے ہیں، اس کا بیٹا ہے ۔(مریم:۹۱۔۹۲) پھر اس بیٹے پر اس غضب کی توجہ ہے کہ کہ اپنی دعائیں بھی اسی سے مانگتے ہیں۔بیٹے پر ایمان لانے کے بُدوں کسی کو نجات نہیں۔خدا کسی کو علم نہیں بخش سکتا۔یہ تو روہ القدس کا کام ہے نہ اﷲ تعالیٰ کا۔غرض اس درجہ بداخلاقی سے کام لینے ولاوں کو خوس خُلق کہنا محض اس بناء پر کہ جب کوئی ان کے