حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 373

خلفاء اور پھر خصوصًا اس عظیم الشّان مجدّد کے پیرو ایسے پاک ہوتے ہیں۔(بدر ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۸،۹) ہر شخص پر جو قرآن پر ایمان لایا۔جس نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو مانا۔جو اﷲ پر ایمان لایا۔اس کی کتابوں پر ایمان لایا۔فرض ہے کہ وہ کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کے کسی نام پر کوئی اعتراض نہ کرنے پائے۔اگر کرے تو اس کا ذبّ کرے۔اس لئے ارشاد ہوتا ہے۔سَبِّحْ۔جناب الہٰی کی تنزیہہ کر، اس کی خوبیاں، اس کے محامد بیان کر۔میں نے بعض نادانوں کو دیکھا ہے۔جب جنابِ الہٰی ، اپنی کامل حکمت و کمالیت سے اس کے قصور کے بدلے سزا دیتے ہیں۔اور وہ سزا اسی کی شامتِ اعمال سے ہی ہوتی ہے۔جیسے فرمایا (الشورٰی:۳۱) تو وہ شکایت کرنے لگ جاتے ہیں مثلاً کسی کا کوئی پیارے سے پیارا مر جائے تو اس ارحم الرّاحمین کو ظالم کہتے ہیں۔بارش کم ہو تو زمیندار سخت لفظ بک دیتے ہیں۔اور اگر بارش زیادہ ہو تو تب بھی خدا تعالیف کی ہکمتوں کو نہ سمجھتے ہوئے بُرا بھلا کہتے ہیں۔اس لئے ہر آدمی پر حکم ہے کہ اﷲ تعالیف کی تنزیہ و تقدیس و تسبیح کرے۔آپ کے کسی اسم پر کوئی حملہ کرے تو اس حملہ کا دفاع کرے۔اب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں کوئی بُرا کہے یا تمہارے ماں باپ یا بھائی بہن یا محبوب کو سخت سُست کہہ دے تو تمہیں بڑا بڑا جوش پیدا ہوتا ہے۔یہاں تک کہ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہو۔لیکن۔جس وقت اﷲ کے کسی فعل پر ( کہ وہ بھی اس کے اسم کا نتیجہ ہے) کوئی نادان یا شریر اعتراض کرتا ہے تو تم کہتے ہو۔جانے دو۔کافر ہے۔بکتا ہے۔اس وقت تمہیں جوش نہیں حالانکہ جن کے لئے تم نے اتنا جوش دکھایا ان میں تو کچھ نہ کچھ نقص یا عیب و قصور ضرور ہو گا۔مگر اﷲ تو ہر بُرائی سے منزّہ، ہر حمد سے محمود ہے ہر وقت تمہاری ربوبیت کرتا ہے۔اب جو اس کے اسماء کے لئے اپنے تیئں سینہ سپر نہیں کرتا وہ نمک حرام ہی ہے اور کیا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کوئی پڑھے ہوئے ہیں۔جو لوگوں سے مباحثے کرتے پھریں؟ تعجب کی بات ہے کہ اگر کوئی ان کے ماں باپ یا بھائی بہن کو یا کسی دوست کو یا خود ان کو بُرا کہہ دے تو ناخواندگی یاد نہیں رہتی۔اور سنتے ہی آگ ہو جاتے ہیں۔اور پھر جس طریق سے ممکن ہو۔اس کا دفاع کرتے ہیں۔مگر جنابِ الہٰی سے غافل ہیں۔اسی طرح خدا کے برگزیدوں پر طعن کرنا دراصل خدا تعالیٰ کی برگزیدگی پر طعن رکھنا ہے۔اس کے لئے بھی مومنوں کو غیرت چاہیئے۔بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے۔شیعہ محلہ میں رہتے ہیں۔