حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 372

پر۔اﷲ کے رسولؐ پر جو لوگ اعتراص کرتے ہیں اور عیب لگاتے ہیں۔ان کو دُور کرو۔اور ان کا پاک ہونا بیان کرو۔ہمارے ملک میں اس قسم کے اعتراضوں کی آزادی حضرت جلال الدین اکبر بادشاہ کے عہد میں سروع ہوئی ہے کیونکہ اس کے دربار میں وسعت خیالات والے لوگ پیدا ہو گئے۔اس آزادی سے لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور مطاعن کا دروازہ کھول دیا۔ان اعتراضوں کو دور کرنے کے لئے ہمارے بزرگوں نے بہت کوشش کی ہے۔چنانچہ شیک المشائخ حضرت شیخ احمد سر ہندی ( رحمث اﷲ علیہ) نے بھی بہت کوشش کی ہے۔جلال الدین اکبر نے جب صدر جہاں کو لکھا کہ چار عالم بھیجیں جو ہمارے سامنے ان اعتراضوں کے جواب دیا کریں۔تو یہ بات حصرت مجدّد صاحب کے کان میں بھی پہنچی۔انہوں نے صدر کو خط لکھا کہ آپ مہربانی سے کوشس کریں کہ بادشاہ کے صرف ایک ہی عالم جائے۔چار نہ ہوں۔خواہ کسی مذہب کا ہو۔مگر ہو ایک ہی۔کیونکہ اگر چار جائیں گے تو ہر ایک یہی چاہے گا کہ میں بادشاہ کا قرب حاصل کروں اور باقی تین کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا۔اگر چاروں گئے تو بجائے اس کے کہ دین کا تذکرہ ہو ایک دوسرے کو ردّ کر کے چاروں ذلیل ہو جائیں گے۔اور یہ لوگ اپنی بات کی پچ میں بادشاہ کو مُلحِد کر دیں گے۔یہ تو اس وقت کا ذکر ہے۔جب اسلام کی سلطنت تھی۔اسلام کے متوالے دنیا میں موجود تھے۔اس وقت کا بیج بویا ہوا اب تین سو برس کے بعد ایک درخت بن گیا ہے۔کیسے دُکھ کا زمانہ ہے۔کہ نبی کریمؐ کے سوانگ ڈراموں میں بنائے جاتے ہیں۔عجیب عجیب رنگوں میں لوگ دھوکہ دیتے ہیں۔جس سے متائثر ہو کر بعض لڑکوں نے غنیمت کی آیت پر لکھ دیا۔محمدؐ لٹیرا تھا۔اگرچہ اس کا جواب مجھے دیا گیا۔کہ نقل اعتراض تھا مگر یہ داغ مٹتا نہیں۔اور مَیں سربان القضاء کا مسئلہ خوب جانتا ہوں۔اسی کے ماتحت اس کو لا کر اس کا ذکر کرتا ہوں۔پس میری سمجھ میں یہ وقت ہے کہ جہاں تک تم میں کسی سے ہو سکتے۔اﷲ کے اسماء صفات افعال اﷲ کی کتاب۔اﷲ کے رسولؐ۔اﷲ کے رسولؐ کے نواّب و خلفاء کی پاکیزگی بیان کرے۔اور ان پر جو اعتراض ہوتے ہیں۔انہیں بقدر اپنی طاقت کے سلامت روی وا من پسندی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کریں۔یہ مت گمان کرو کہ ہم ادنیٰ ہیں۔وہ طاقت رکھتا ہے۔کہ تمہیں ادنیٰ سے اعلیٰ بنا دے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔۔ (الاعلیٰ:۳،۴) جو ان پڑھ ہیں۔انہیں کم از کم یہی چاہیئے کہ وہ اپنے چال و چلن سے خدا کی تنزیہہ کریں یعنی اپنے طرزِ عمل سے دکھائیں کہ قدّوس خدا کے بندے۔پاک کتاب کے ماننے والے۔پاک رسولؐ کے متبع اور اس کے