حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 371 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 371

بے عیب ہونا ظاہر کرو۔ادنیٰ مرتبہ تو یہ ہے کہ مومن اپنی زبان سے کہے۔سَبْحَانَ اﷲِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ پھر وہ کلمات جن سے میں نے اپنے خطبہ کی ابتداء کی اَﷲُ اَکْبَرُ اَﷲُ اَکْبَرُ۔لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲ اَکْبَرُ وَلِلّٰہَ الْحَمْدُ۔اس میں بھی اس کی کبریائی کا بیان ہے۔پھر اس سے ایک اعلیٰ مرتبہ ہے۔وہ یہ کہ تسبیح دل سے ہو۔کیونکہ یہ جناب الہٰی کے قرب کا موجب ہے۔کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی الِلْسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْنَران سُبْحَانَ اﷲِ اَلْحَمْدُ ۱؎ جمعہ کا دن لِلّٰہِ اور فرماتا ہے کہ (الحج:۳۸) پس ضرور ہے کہ یہ تسبیح جو کریں تو دل کو مصفّا کر کے کریں۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ اﷲ کے فضل پر ناراض نہ ہوں اور یہ یقین کریں کہ جو کچھ خدا کرتا ہے بھلا ہی کرتا ہے۔اور جو کچھ کرے گا وہ بھی ہماری بھلائی و بہتری کے لئے کرے گا۔ہمارے مربّی و محسن پر اﷲ رحم فرمائے کہ اس نے میرے کانوں میں بھی آواز پہنچائی اور مجھے مشق کے لئے یہ شعر لکھ دیا۔ع سر نوشت ماز دست خود نوشت خوشنویس است و نخواہد بد نوشت پس ہمیں چاہیئے کہ اس اﷲ کو جس کی ذات اعلیٰ اور تمام قسم کے نقصوں اور عیبوں سے بالاتر ہے ہے۔رنج و راحت۔عُسر و یُسر میں بے عیب یقین کریںاَلشَّرُّ اِلَیْکَ وَ الْخَیْرُ کُلُّ ہٗ فِیْ یَدَیْکَ۔میں دیکھتا ہوں۔کہ ایک جمعہ میں مَیں نے اپنی طرف سے الوداعی خطبہ پڑھا کہ میری حالت ایسی تھی کہ تھوک کے ساتھ بہت خون آتا۔اندر ایسا جل گیا تھا کہ خاکستری دست آتے اور میں رات کو جب سوتا تو یہی سمجھتا کہ بس اب رخصت۔اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ۔گھر والے بعض وقت ہمدردی سے مجھے ملامت کرتے کہ تم پرہیز کرتے۔بہت وعظ کرتے ہو۔سبق بدستور پڑھائے جاتے ہو۔تو مَیں کہتا۔بیشک جس قدر نقص و عیب ہیں میری طرف منسوب کر لو۔میرا مولیٰ تو جو کجھ کرتا ہے بھلا ہی کرتا ہے۔بھلا ہی کرتا ہے۔سچ ہے وَ الْخَیْرُ کُلَّہٗ فِیْ یَدَیْکَ۔غرص تم زبان سے سبحان اﷲ کا ورد کرو۔تو اس کے ساتھ دل سے بھی ایسا اعتقاد کرو۔اور اپنے دل کو تمام قسم کے گندے خیالات سے پاک کردو۔اگر کوئی تکلیف پہنچے تو سمجھو کہ مالک ہماری اصلاح کے لئے ایسا کرتا ہے۔پھر اس سے آگے اﷲ توفیق دے تو اﷲ کے اسماء پر اﷲ کے صفات و افعال پر۔اﷲ کی کتاب