حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 368
علیم و خبیر ہے۔پس یہ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کی دلیل ہے۔اس کے بعد ایک اور دلیل برنگ پیشگوئی فرمائی کہ ۔یعنی تیرے ہر ایک کام میں سہولتیں اور آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔مکّی زندگی جس عُسر اور تنگی کی زندگی تھی وہ تاریخی اوراق سے عیاں ہے لیکن بعد میں آپؐ کے لئے جس قدر سہولتیں پیدا ہوئی ہیں۔وہ بھی ایک ظاہر امر ہے۔ہر کام میں سہولت اور آسانی پیدا ہو گئی اور اس طرح پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔اس کے بعد پھر ایک پیشگوئی فرمائی۔کہ آپ کا کام تذکیر ہے۔آپ اس نصیحت کو لوگوں تک پہنچاتے جائیں۔یہ خالی از فائدہ نہ ہو گی۔ضرور اپنا مفید نتیجہ پیدا کرے گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء) ۹۔۔مکّی زندگی آپؐ کی جس قسم کی عُسرت کی تھی۔اس کو پیشِ نظر رکھ کر آپؐ کے عروج اور کمال تک نظر کی جاوے۔تو آیت کا مفہوم خوب سمجھ میں آ جاتا ہے۔علاوہ اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ پیغمبر اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جو دین لائے ہیں۔اس کی تعریف آپ نے یوں فرمائی ہے۔… یعنی افراط و تفریط اور رہبانیت سے منزّہ سہل اور آسان دین کے ساتھ آپ مبعوث ہوطے۔سفر میں قصر ہے۔عذر ہو تو تیمّم ہے مسجد نہ ہو تو سب جگہ مسجد ہی مسجدہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء) ۱۰۔۔اِنْ بمعنے قَد ہے۔جیسے فرمایا(بنی اسرائیل :۱۰۹)آل عمران:۱۶۵) اِن کے معنے ہر جگہ شرطیہ نہیں ہوتے۔ان دو مقام کے علاوہ قرآن شریف میں کثرت سے اِن قَد کے معنوں میں آیا ہے۔(زخرف:۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سُنے یا نہ سُنے۔وعظ و نصیحت کبھی ترک نہیں کرنا چاہیئے۔گوش زدہ اثر سے وارد۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء)۱۵ تا ۱۷۔۔۔۔