حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 366 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 366

۵،۶۔۔۔مَرْعٰی: زمینی گھاس پات سبز۔ خشک کورڑا کرکٹ۔غثاء جمع ہے۔اس کا واحد غُثَاۃ آیا کرتا ہے۔۔ہوث سے مشتق ہے۔سبزی کے بعد کسی چیز کا سیاہ ہو جانا حُوۃ ہے۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کے مقابلہ میں کفّار کا جو انجام ہونیوالا تھا۔ان دو آیتوں میںدکھلایا ہے۔جو خس کم جہاں پاک کے مصداق ہو گئے۔روئے سُخن۔ابوجہل۔عتبہ۔شیبہ ربیعہ وغیرہ اس وقت کے کفّار کی طرف ہے۔مگر مفہوم کے اعتبار سے مصداق اس کے ہر صادق، راست باز ے معاند ہیں۔انہیں کا وجود ان کے کھیت کے لئے کھاد بن جاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء) ۷،۸۔۔ ۔حدیث شریف میں آیا ہے۔کہ قرآن شریف جسے یاد ہے۔وہ اس کو پڑھتا پڑھاتا رہے۔اگر پڑھنے میںڈھیل دے دی گئی تو وہ کُھلے ہوئے اونٹ سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ سینوں سے نکل جاتا ہے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰث والسلام سے ہر سال ایک بار دَور کیا کرتے تھے سالِ وفات آپؐ نے دو بار دَور کیا’’ س‘‘ کے معنے ضرور بالضرور کے ہیں۔کے تحت میں موجود قرآن شریف کے علاوہ جس قدر مختلف قِرَأتیں عرب کے لب و لہجہ کی وجہ سے تھیں سب نَسْیًا مَّنْسِیًّا ہو گئیں۔جو زیادہ تر مشہور قرأت تھی۔وہی متلّور ہی۔قرآن شریف کے جمع کے متعلق صحابہ رصی اﷲ عنہ کا فعل تھا۔شیعہ معترضین اس پر غور فرماویں۔ان آیات میںآنحصرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت کے سلسلہ میںبتایا کہ ہم تجھے پڑھائیں گے اور تُو کبھی نہیں بھولے گا۔جیسے پہلی آیتوں میں بتایا تھا کہ ہر شے کو اﷲ تعالیٰ نے ایسے فطرتی قوٰی دئے ہیں جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں۔ایسا ہی اس کو اس کے کمالِ مطلوبہ تک پہنچنے کا طریق بتایا ہے پس جس باجُود ہستی کو نورِ نبوّت دیا جاتا ہے۔ضرور ہے کہ اس کے قوٰی میں بھی وہی قوّت اور طاقت ہو اور اس بارِ نبوّت کے اٹھانے کے لئے وہ ہمہ تن تیار ہو۔اور ہر قسم کی مشکلات جو اس راہ میں پیش آویں