حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 360 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 360

عرب کے علوم مصر سے اور مصر کے علوم ہندیا ایران سے۔اور بہتوں کا خیال ہے کہ ہند کے علوم بھی ایران سے لائے گئے۔پھر اسلام کے ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے جبکہ مسلمانوں کے علوم اپنے اوج پر پہنچے ہوئے تھے۔مزیدبآں حضرت شیخ نے اپنے علوم کو سیاحت و تجربہ زمانہ سے اور بھی جِلا دی تھی۔بایں ہمہ شیخ کی تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے ’’ صلب آور د نطفہ در شکم‘‘ جس پر آجکل کی علمی دنیا ہنسی اڑاتی ہے۔ملک عرب میں بھی بالخصوص صلب و اصلاب ہی کا محاورہ دائر و سائر تھا اور یہیں تک ان کے محدود ذہن کی رسائی تھی۔مگر قرآن کریم پر قربان جایئے جو ہمیشہ ہر زمانے میں اپنی راستی اور صداقت دکھانے کو تیار ہے۔اور ابد تک رہے گا۔یہیں سے انسانی کلام اور کلامِ الہٰی کا تفرقہ معلوم ہوتا ہے۔اب قرآن کا مطلب سنئے۔حقیقی جواب: فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ۔خُلِقَ مِنْ مَّآئِ دَافِقٍ یَخْرُجُ مِنْبِیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ۔انسان کو چاہیئے دھیان کرے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔پیدا کیا گیا ہے۔اُچھلتے پانی سے جو پُشت اور سینے کی ہڈیوں کے بیچوں بیچ سے ہو کر نکلتا ہے۔کیا معنی کہ نطفہ صُلب اور ترائب کے بیچوں بیچ سے آتا ہے۔صُلب پیٹھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ترائب جمع ہے تریبہ کی۔سینے کی ہڈی۔(تَرِیْبَۃٌ وَ ھِیَ عَظْمُ الصَّدْرِمِنْ رَجُلِ اَوْ امْرَأَۃٍ۔صحاح)اب غور کرو نطفہ اور مَنی شریانی خون سے بنتی ہے۔اور وہ سریان دِل سے نکلتا ہے۔اور دل صُلب و ترائب کے بیچوں بیچ ہے۔اَور طرح پر مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ باری تعالیٰ متکبّر انسان کی گردنِ عُجُب توڑنے کو اُسے اس کی خلقتِ جسمانی منبع کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اور چونکہ قرآن کلامِ الہٰی ہے اور ہر مجلس میں جوانوں بوڑھوں عورتوں میں پڑھا جاتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ انسانی اصلاح کے ہر قسم کے مطالب و ارشادات اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اور تہذیب سے ادا کرے۔یہاں دانا سمجھ گئے ہوں گے اور حق شناس تو سمجھتے ہی ہیں کہ گردن کش انسان کو نصیحت کرنا قرآن کریم کو منظور ہے اور کس جگہ کی طرف اشارہ اُسے مقصود ہے۔مگر اﷲ اﷲ کس خوبی اور لطافت سے اس مضمون کو نبھایا ہے۔یہی اس کتاب کریم کا اصلی اور سچّا معجزہ ہے۔معترضو! خواہ مخواہ کی طعنہ زنی کے عشقو! ترائب سے نیچے نگاہ کرتے جاؤ اور صُلب کی طرف