حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 354 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 354

سُوْرَۃَ الْبُرُوْجِ مَکِّیَّۃٌ  ۲ تا۴۔۔۔۔بُرُوْج: عربی زبان میں روشن ستاروں کو کہتے ہیں۔بُرج کے لغوی معنے ظاہر کرنے کے ہیں۔ سے مراد معروف بارہ بمرج۔حمل۔ثور۔جوزاء۔سرطان وغیرہ لئے ہیں مگر اسی قدر پر ٹھہر جانے سے اگے مطلب نہیں چلتا اور نہ آیات ماسبق کی آیات مالحق سے کوئی مناسبت پیدا ہوتی ہے۔اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ بالاتفاق یہ سورۃ مکّی ہے۔اور اس وقت نازل ہوئی جبکہ نومسلم صحابہ رضی اﷲ تعالیف عنہم کفّارہ کا شکار ہو رہے تھے۔کوئی گرم پتتے ہوئے پتھروں پر لٹایا جا رہا تھا اور کوئی بڑی بڑی بے رحمیوں سے قتل کیا جاتا تھا کہ گویا کہ آسمانی سطوت و جبروت کا مقابلہ زمینی حکومت سے کیا جا رہا تھا۔اور یہ جانکاہ چیزیں پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی حضوری میں در پیش تھیں جن سے آپ کو اور نو مسلم کمزور اصحاب کو صدمۂ عظیم تھا۔اس لئے ان مظالم کے جواب میں جو زمینی حکومت کے ذریعہ سے کی جاتی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے بھی تین ملکوتی سطوت اور جبروت کو پیش کیا ہے جو سماء ذات بُروج۔یوم موعود۔شاہد و مشہود ہیں۔سماء ذات بروج سے سارا ملکوتی اقتدار مراد ہے۔نہ صرف روشن ستارے یا سرطان۔اسد سنبلہ۔میزان۔عقرب وغیرہ بروجِ معروفہ یا یوں تصوّر فرماویں کہ ’’ دولتِ برطانیہ‘‘ کہنے کو تو ایک لفظ ہے مگر اس ایک لفظ کے مفہوم میں انگلیند۔آئرلیند۔سکاٹ لیند اور ونش اور ان کے تمامی مختلف ڈیپارٹمنٹ اور صوبے اور حکومتیں ہیں۔جن پر رات اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے کسی ساعت میں بھی آفتاب کا زوال نہیں ہوتا۔زمینی حکومت کے ذریعہ سے جو تعذیب کی جا رہی تھی اس کے بالمقابل سماء ذاتب بُروج۔یومِ موعود۔شاہد و مشہود کو رکھا ہے۔