حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 350
(طور:۲۷) مومن کو دنیا میں ہزار قسم تنعّم ہو مگر آخرت کی فکر جاں گداز رہتی ہے۔اور دنیا کی راحت ان پر تلخ رہتی ہے ولنعیم ما قیل ؎ مراد منزلِ جاناں چہ امن و عیش چوں ہردم جرس فریاد میدارد کہ بر بندید محملھا اور بھی کسی نے کہا ہے۔عشرت امروز بے اندیشہ فرد اخوش است ذکر سنبہ تلخ دارد جمعۂ اطفال را (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء) ۱۷ تا ۲۰۔۔۔۔۔لآ اُقْسِمُ کی توجیہہ سورۃ القیامۃ میں بیان ہو چکی ہے۔شفق غروب آفتاب سے قبل اور بعد کی سُرخی۔وَسَقَ کے معنے جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔راتجَامِعُ الْمُتَفَرِّقِیْن ہے چرند پرند۔حیوانات۔انسان سب رات کو اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اِتَّسَقَ چاند کا بھر پور ہونا ہے اور یہ تدریجًا ہوتا ہے۔اسی کو میں واضح فرمایا۔سورث التکویر میں پیغمبر وسلم کے وجود مبارک سے آپ کے زمانہ میں جو ترقیات ہونے والی تھیں ان کو وَالصُّبْعب اِذَا تَنَفَّسَ ( التکویر:۱۹) فرما کر ذکر فرمایا ہے۔اور اس جگہ ان آیات کے باب میں آپ کے خلیفوں کے ذریعہ سے جو ترقیات مقدّر تھیں ان کا ذکر فرمایا ہے۔شَفَق کے لفظ میں اور ( النور:۵۶) میں ایک لطیف مناسبت ہے۔صدیق اکبرؓ کے ابتداء زمانہ خلافت میں ارتداد عرب سے یہ شفق اور خوف دونوں واقع ہو گئے۔بعد اختلاف یسیر کے مہاجرین و انصار کا اتفاق اور ایک خلیفہ کے ہاتھ پر اُن کا جمع ہو جانا اسی ظلمت کے وقت میں وَ اللَّیْلِ وَمَا وَسَقَ کا ایک عجیب نظارہ تھا اور اب تو خداوند کریم کے فضل سے ایّام بیض و لیالی بدر ہیں۔جووَ الْقَمَرِ کے اِذَا اتَّسَقَکے مصداق ہیں اور یہ جملہ ترقیات چونکہ تدریجاًہیں اس لئیلَتَرْکَبُنَّ طَبْقًا عَنْ طَبْقٍ فرمایا۔زبان انگریزی میں ایک ضرب المثل ہے۔جولَتَرْکَبُنَّ الآیہ… سے موافقت رکھتی ہے