حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 31

کرتی ہیں۔سنو! مطالب دو قسم کے ہوتے ہیں۔اوّلؔ بڑے ضروری۔دوسرےؔ ان سے کم درجہ کے۔بڑے مطالب کو بہ نسبت دوسرے مقاصد کے بلاریب تاکید اور براہین و دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔یہ میرا دعوٰی بہت صاف اور ظاہر ہے۔تاکید کے واسطے ہر زبان میں مختلف کلمات ہوا کرتے ہیں۔ایسے ہی عربی میں بھی تاکید کیلئے بہت الفاظ ہیں مگر ایشیائی زبانوں میں جیسے علی العموم قسم سے بڑھ کر کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔ایسے ہی عربی کے لڑیچر میں بھی قسم سے زیادہ کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔اس لئے اس میں عربی محاورات پر ضروری مطالب میں قسموں کا استعمال بھی ہوا… رہی یہ بات کہ اہم اور بہت ضروری مطالب میں براہین اور دلائل کا بیان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔قرآن کریم نے ان مطالب میں قسموں کے علاوہ اور کیا ثبوت دیا ہے۔سو یاد رہے۔جہاں قرآن کریم کسی مطلب پر قسم کو بیان کرتا ہے۔وہاں جس چیز کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے۔وہ چیز قانون قدرت میں قسم والے مضمون کے واسطے ایک قدرتی شاہد ہوتی ہے اور یہ قسم قدرتی نظروں میں اپنے مطلب کی مثبت ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہو گا۔مثلاً…الخ (اللیل:۵)یک مطلب ہے جس کے معنی ہیں’’ لوگو! تمہارے کام مختلف ہیں۔اور ان کے نتائج بھی الگ الگ ہیں‘‘ قرآن مجید اس مطلب کو قانونِ قدرت سے اس طرح ثابت کرتا ہے۔۔۔ ۔کیا معنی؟ رات پر نظر کرو جب اس کی کالی گھٹا چھا جاتی ہے۔پھر دن پر نظر ڈالو۔جب اُس نے اپنے انوار کو ظاہر کیا۔پھر مرد اور عورت کی خلقت اور بناوٹ پر غور کرو۔اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوچو تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہو گا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ الگ اور ان کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں۔ایسے ہی باری تعالیٰ کے نام جان و مال کو دینے اور نافرمانیوں سے بچنے والا اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کا مصدق۔اور اس کے مقابل جان اور مال سے دریغ کرنے والا نافرمان اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کا مکذّب بھی الگ الگ ہیں اور الگ نتیجہ حاصل کریں گے۔ہمارے پاک ہادی۔سرورِ اصفیاء۔خاتم الانبیاء کی اثبات نبوّت اور آپ کی عظمت اور بڑائی ثابت کرنا بڑا احقاقِ حق اور آپ کے منکروں کو ملزم کرنا بڑا ابطالِ باطل تھا۔قرآن کریم نے اس احقاقِ اور ابطالِ باطل پر پُر زور دلائل دئے ہیں۔ان دلائل کا بیان اس جگہ موزوں نہیں۔البتہ ان براہین میں سے اس ون النَّجمکے پہلے رکوع میں۔احقاقِ حق اور ابطال باطل کا ایک ثبوت ہے۔اور قبل اس کے کہ حضور علیہ السلام کی صداقت اور راستی اور سچائی کو ثابت کیا جاوے۔نفس نبوّت اور مصلح کی ضرورت کو قرآن میںالنَّجمکا لفظ فرما کر