حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 28

والے کا دوست دوسرے کمان والے کا دوست ہو گااور ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن قرار پائے گا۔اسی طرح انبیاء اور رسولوں کی پاک ذات کا خاصہ اور ان کی فطرت ہوتی ہے۔کہ وہ پاک گروہ اور ان کے اتباع مگر گرویدہ اتباع اَلْحُبُّ لِلّٰہِ وَ الْبُغْضُ فِی اﷲِ میں منفرد ہوتے ہیں۔اپنے ہر ایک اعتقاد اور قول اور فعل میں حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ کی رضامندی کو مقدّم رکھتے ہیں۔اس بلائے سے بولتے اور اسی کے چلائے سے چلتے ہیں۔ان کارحم اور ان کا غضب اﷲ تعالیٰ کا رحم اور اﷲ تعالیٰ کا غضب ہوتا ہے۔ایسی وحدت و اتحاد کا باعث ان کے ہاتھ پر بیعت اور اقرار اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت اور اسی سے اقرار ہوتا ہے اور اسی اتحاد کا بیان آیاتِ ذیل میں ہے۔(الفتح:۱۱) (النساء:۸۱) (الانفال:۱۸) وغیرہ آیات کریمہ میں ہے۔وَ اِلَّا وہ تو بشر ہوتے ہیں۔اور اپنی بشریت اور عجز اور فقر کو اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔وَ اِنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِکُمْ۔وَلَآ اقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اﷲِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ۔فرما کر ثابت کرتے اَللّٰھُمَّ۔  باری تعالیٰ کی گرامی اور مقدّس ذاتِ پاک سے ان کی ذات کو دُنُّو اور تقرّب ہوتا ہے اور ان کی کمان اﷲ تعالیٰ کی کمان سے بالکل وحدت پیدا کرتی ہے۔اسی عمدہ مضمون کو قرآن کریم نے اس سورہ والنجم میں بایں کلمات فرمایا ہے۔ (پھر نزدیک ہوا اور پاس کھڑا ہوا۔پس دونوں کمانوں کا قاب یا اس سے بھی قریب تر ہو گیا۔) اب حسبِ بیان سابق ضرور تھا کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ تقرّب اور اس بارگاہِ معلّی میں عبودیت تامہ کے ثبوت کے بعد روح حق اور روح القدس کا فیضان ہوتا۔اس لئے جناب رسالت آب کی اعلیٰ درجہ کی عبودیت اور فرماں برداری اور حُبّ لِلّٰہِ اور بغض فی اﷲ ِکے نتیجہ اور فیضان کا بیان ہوتا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۹۵ تا صفحہ ۱۹۷)