حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 312 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 312

ایک آتشیں گیس تھی۔جس کی بالائی سطح پر دھؤاں اور دخان تھا۔اور اس امر کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔جہاں فرمایا ہے۔(حٰمٰ ٓالسجدہ:۱۲) پھر وہ آتشیں مادہ اُوپر سے بتدریج سرد ہو کر ایک سیال چیز بن گیا۔جس کی طرف قرآن شریف ان لفظوں میں اشارہ فرماتا ہے۔وَ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ پھر وہ سیال مادہ زیادہ سرد ہو کر اُوپر سے سخت اور منجمد ہوتا گیا۔اب بھی جس قدر اس کے عمق سے نیچے اب تک ایک ایسا ذوبانی اور ناری مادہ موجود ہے جس کی گرمی تصوّر سے بالا ہے۔( اسلام نے بھی دوزخ کو نیچے بتایا ہے) جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی نہ تھی۔اس وقت زمین کے اس آتشیں سمندر کی موجو ں کا کوئی مانع نہ تھا۔اور اس لئے کہ اس وقت حرارت زیادہ قوی تھی اور ہرارت حرکت کا موجب ہوا کرتی ہے۔زمین کی اندرونی موجوں سے بڑے بڑے مواد نکلتے۔جن سے پہاڑوں کے سلسلے پیدا ہو گئے۔آخر جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی ہو گئی۔اور اس کے ثبات و ثقل نے اس آتشیں سمندر کی موجوں کو دبا لیا۔تب وہ زمین حیوانات کی بود و باش کے قابل ہو گئی۔اسی واسطے قرآن کریم نے فرمایا ہے۔(لقمان:۱۱) اور اس کے بعد فرمایا۔(لقمان:۱۱) اَلْقٰی کا لفظ جو آیت اَلْقٰی فِی الْاَرْضِ میں آیا ہے۔جس کے صاف معنے ہیں’’بنایا‘‘ کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیت میں بجائے اَلْقٰی کے فَعَلَ کا لفظ آیا ہے جس کے صاف معنے ہیں۔بنایا۔اور اُن امور کی کیفیت آیت ذیل سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔( حٰمٰ السجدہ:۱۱) اورزمین کے اوپر پہاڑ بنائے اور اس میں برکت رکھی ( حٰمٰ السجدہ:۱۱) اور اس پر ہر قسمِ کے کھانے کی چیزیں پیدا کیں۔ایک عجیب نکتہ آپ کو سناتے ہیں۔آپ سے میری مراد وہ سعادت مند ہیں جو اس نکتہ سے فائدہ اٹھائیں۔قرآن کریم میں ایک آیت ہے اس کا مطلب ایسا لطیف ہے کہ جس سے یہ تمہارا سوال بھی حل ہو جاوے اور قرآن کریم کی عظمت بھی ظاہر ہو۔غور کرو اس آیت پر۔( النمل :۸۹) اور تو پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتا ہے کہ وہ مضبوط جمے ہوئے ہیں اور وہ بادل کی طرح امڑ رہے ہیں۔یہ اﷲ تعالیٰ کی کاریگری قابلِ دید ہے جس نے ہر شَے کو خوب مضبوط بنایا ہے۔