حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 27
۶ تا ۱۰۔۔۔ ۔۔۔سکھایا اس کو بڑے طاقتور نے۔بڑے جگر ے کا تھا پس پورا نظر آیا اور وہ اب بلند کنارے پر ہے۔قانونِ قدرت کا عام قاعدہ ہے۔جس قدر کوئی چیز دوسری چیز سے تعلق پیدا کرے گی۔اسی قدر اس دوسری چیز سے متائثر اور متحد ہو گی۔ایک عادل بلکہ ہمہ عدل مالک اور علیم و خبیر سلطان کے لائق اور جاں نثار۔چُست و ہوشیار۔رصامندی کے طالب نوکر اور کادم کو جو جو انعام اور اکرام ملیں گے۔اور ایسے مقتدر اور مقدّس بادشاہ کے ایسے پیارے خادم جن جن انعامات اور الطاف کے مورد ہوں گے۔ویسے نالائق اور نکمّے خودپسند۔مطلبی کاہل نام کے نوکر اور جھوٹے خادم ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتے۔اﷲ تعالیٰ کی ذات سے جس قدر اس کے بندوں کو تعلق ہو گا اسی قدر وہ قابلِ انعام ہوں گے جتنی بندگی اور عبودیت کامل ہو گی اتنا ہی الوہیت کا میل اس سے زیادہ ہو گا اور بقدر ترقی عبودیت رُوح القدس کا فیضان ہوتا ہے۔ (المجادلہ:۲۳) یاد رہے۔یہی توحید اور تثلیث کا مسئلہ تھا جس کو عیسائی نہ سمجھ کر شرک میں گرفتار ہو گئے اور یہی وہ بھید ہے جس میں اﷲ تعالیٰ کے اور اس کے انبیاء اور رسل اور اولیاء کے باہمی تعلق کے باعث فیضان رُوح کا پتہ لگ سکتا ہے۔طالب صداقت سچی ارادت سے چند روز بحضور مرزا صاحب حاضر ہو کر استقلام و صبر سے منتظر ہو اور دیکھ بھی لے۔عرب کا دستور تھا۔جب دو آدمی باہم اتحاد پیدا کرتے اور معاہدہ کر لیتے تو دونوں اپنی اپنی کمانیں اس طرح ملاتے کہ ایک کمان کی لکڑی دوسری کی کمان کی لکڑی سے ابتداء تا انتہاء ایک سرے سے دوسرے سرے تک ملائی جاتی اور ایک کمان کی تار دوسری کمان کی تار سے ملائی جاتی تب دونوں قوسوں کے دو قاب ایک قاب کی شکل دکھلائی دیتی۔پھر دو کمانوں کو اس طرح ملا کر دونوں معاہدہ کنندے ایک تیر۔ان دونوں کمانوں مگر اب ایک ہو گئی ہوئی کمان میں رکھ کر چھوڑتے۔اور یہ رسم عرب کی اس امر کا نشان ہوتا تھا کہ اس وقت کے بعد ایک کمان