حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 26

اور خود نہ کرے۔پس اس امر کو حضور علیہ اصللوٰۃ والسلام کی نسبت فرمایا ہے۔مَاضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَاغَوٰی۔حضور کے علمدر آمد کا یہ حال ہے کہ جنابہ صدیقہ علیہا السلام نے ایک لفظ میں سوانح عمری بیان فرما دی کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ یعنی آپؐ کے اعمال و افعال بالکل قرآن کریم ہی کے مطابق ہیں۔(الحکم ۱۹؍اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ۵) اﷲ تعالیٰ نے ایک ہادی کی ضرورت اور پھر اس میں جو ضروری اوصاف ہونے چاہئیں۔پھر ان اوصاف کا اعلیٰ و اکمل و اتم طور پر حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات میں پایا جانا جس دل آویز و دلنشین پیرائے میں بیان کیا ہے۔وہ قرآن مجید کی ان اعجازی خواص سے ہے۔جو بالخصوص اسی کتاب حکیم میں پائے جاتے ہیں۔پہلے تو وَ النَّجْمِ اِذَا ھَوٰی فرما کر جسمانی انتظام سے روحانی نظام کی طرف متوجّہ کیا۔النَّجم کے سمت الرّاس سے نیچے ہونے کی وجہ سے مغرب،مشرق، جنوب، شمال کے راستوں کا علم ہوتا ہے۔جب جسمانی بہتری و بہبودی کے لئے یہ انتظام ہے۔تو روحانی دنیا میں صراط مستقیں کی ہدایت کے واسطے کسی النجم کی ضرورت کیوں نہ ہو۔اس کے بعد فرمایا کہ تین وصف اس راہنما میں ہونے ضروری ہیں۔ایک تو وہ خود واقفِ کار ہو۔اسے نیکی و بدی نافع و ضار کا علم ہو دومؔ۔وہ اجنبی نہ ہو۔اس ملک کے رسم و رواج۔مذاق۔عادات۔حالات سے آگاہ ہو۔اور اس ملک کے باشندے بھی اس کے کیریکٹر۔علم۔قابلیت کو خوب جانتے ہوں تاکہ نہ وہ دھوکہ کھائے۔نہ اس کے بارے میں احتمال ہو کہ یہ ہمیں دھوکہ دے گا۔سومؔ عالم باعمل ہو۔اپنے علم کو اپنی اور اپنے بھائی بندوں کی اصلاح میں خرچ کرنے والا ہو۔نہ یہ کہ وہ اپنے علم سے مفاسد و شرارت کو بڑھانے والا ہو۔یہ اوصاف حضر ت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم میں اعلیٰ درجے کے انتہائی کمال کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔آپؐ کا علم ایسا کہ شدید القوٰی نے آپؐ کو سکھایاوَ ھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی کا خطاب پا کر (الجمعہ:۳) آپ کی شان میں آیا۔پھر جو کچھ آپ نے فرمایا۔وہ ھَوٰی نہیں تھا۔بلکہ وَحْيٌ یُّوْحیٰ تھا۔اس لئے آپ پر مَاضَلَّ خوب صادق آتا ہے۔اور اجنبی نہیں۔اس کے لئے صَاحِبُکُمْ فرمایا۔عرب کے عمائد و اہل الرائے آپ کے مکارم اخلاق کے مقرّ تھے۔آپؐ نے اپنے اعلیٰ کیریکٹر کا دعوٰی بڑی تحدّی سے پیش کیا اور فرمایا۔ (یونس:۱۷)امین کا لقب تو آپؐ پا ہی چکے تھے اور یہ کہ آپؐ اپنے علم سے لوگوں کو سیدھی راہ پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔واقعات اس کی تصدیق کر رہے تھے۔وہ لوگ جو زنا۔شراب۔جوآبازی ایسے بدترین گناہوں کو اپنی مجالس میں بڑے فخر کے ساتھ ذکر کرتے تھے۔وہ اپنے کئے پر نادم ہوئے اور شراب کے پانچ بلکہ آٹھ وقتوں کی بجائے اتنے وقتوں کی نمازیں پڑھنے لگے۔ایسا ہی ہر بدی کو چھوڑ کر اس کے مقابلہ میں انہوں نے ایک نیکی اختیار کر لی۔پس مَاغَوٰی آپؐ پر صادق آیا ( تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر ۵ صفحہ ۲۲۵۔۲۲۶)