حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 303

الساعۃ کے طور پر یہ وعدے دنیا میں اس وقت بھی پورے ہوئے اور ہو رہے ہیں۔بہت سارے مباحث جن کا فیصلہ مولوی ملّاؤں کے ہاتھوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔ان کا فیصلہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر ہو گیا۔عیسائیوں کا فیصلہ ڈوئی اور آتھم کے ذریعہ سے ہو گیا۔آریوں کا فیصلہ لیکھرام کے ذریعہ سے ہو گیا۔سکھوں کا فیصلہ باوانانک علیہ الرحمث کے ذریعہ سے ہو گیا۔: جہاں قرآن شریف میں تکرارِ لفظی کے ساتھ کئی باراس جملہ کو دہرایا ہے۔وہاں خصوصیت کے ساتھ مسیہ موعود علیہ الصلوٰث والسلام کے متعلق پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے وہ الفاظ مطابقت کے لئے اشارہ کر رہے ہیں جس میں مسیح موعود کے کافر کُس دُم کی نسبت فرمایا ہے کہ لَا یَحِلُّ لِکَافِرٍ اَنْ یَّجِدَرِیْحَ نَفْسِہٖ اِلَّامَاتَ وَ نَفَسُہٗ یَنْتَھِیْ حَیْثُ یَنْتَھِیْ طَرَفُہٗ ۱؎ یہ کذّبِین کے لئے ویل کا دن اور یومِ الفصل ثبوت ہے اس بات کا کہ اس کے بعد یوم القیامۃ جزا سزا کا دن بھی آنیوالا ہے۔حدیث شریف میں جو مسیح موعود کے اَنفاس کا ذکر ہے اس سے مراد آپ کے دلائل قاطعہ اور پیشین گوئیاں ہیں۔چنانچہ انفاس کو اس شعر میں ملفوظاتِ نبوی کہا ہے۔اھلُ الْحَدِیْثِ ھُمٗ اَصْحٰبُ النَّبِیِّ وَ اِنْ لَمْ یَصْحَبُوْا نَفْسَہٗ اَنْفَاسَہٗ صَحِبُوْا اس آیت شریفہ کو اس سورت میں بار بار یاد دلا کر یہ یقین دلایا ہے۔کہ منکرین و مکذّبین ہرگز ہرگز فوزو فلاح کے وارث نہ ہوں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اپریل ۱۹۱۲ء) اﷲ اس سورہ شریف میں ایک عجیب نظارہ دکھلاتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ سوچو۔بہار کی لطیف ہوا کیسی فرحت بخش ہوتی ہے۔ایک نوجوان اس وقت سڑک پر چلتا ہو تو اس کی زبان سے بھی ایک فقرہ ضرور نکل جاتا ہے۔ وہ ہوائیں جو دل کو خوش کرنیوالی ہوتی ہیں تم جانتے ہو کہ بعض وقت ہوا کا ایک لطیف جھونکا چلتا ہے کہ اس لطیف جھونکے سے دل خوش ہو جاتا ۱؎ ترجمہ از مرتب: مسیح موعود کے اَنفاس سے کوئی کافر زندہ نہیں بچ سکے گا اور اس کے اَنفاس وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک اس کی نظر جائے گی۔