حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 302
مِٹ جاوے گا۔نجم عربی میں چھوٹے ستاروں اور چھوٹے چھوٹے بُوٹوں کو کہتے ہیں جیسے فرمایا۔وَ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُیَسْجُدٰن (الرّحمن:۷) اور بڑے ستاروں کو کواکب کہتے ہیں۔چونکہ قرآن شریف کے لئے ظہر اور بطن ہے اس لئے علاماتِ قیامت سے یہ بھی ایک علامت ہے کہ ایسے علماء جو نجوم کی طرح ہیں۔ان کی نورب فراست جاتی رہے گی۔دوسری جگہ فرمایا: وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ (التکویر: ۳) علماء کا نورانی چشمہ مُکدَّر ہو جائے گا۔بیچارے کیا کریں۔تفسیروں پر تفسیریں لکھی گئی ہیں اور ہاشیوں پر حاشیے چڑھائے گئے۔یہ تو ہال علماء کا ہوا۔جو راہ یابی کے لئے بطور نجم کے نشان وہ تھے۔باقی رہے حقّانی علماء ان کے لئے حدیث شریف میں آیا ہے کہ یُقْبَضُ الْعِلْمُ بِقَبْضِ الْعُلَمَآئِ یعنی حقّانی علماء کے مرنے سے علم دنیا سے جاتا رہے گا۔قرآن شریف میں بھی اِذَا لْکَوَاکِبُ انْتَشَرَتْ ( انفطار:۳) یعنی برے ستارے جھڑ پڑیں گے کہہ کر علماء ربّانی کی وفات اور قبْضِ علم کی طرف اشارہ کیا ہے۔: جب آسمان شگافتہ ہو جاوے گا۔اور دوسری جگہ قرآن شریف میں اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ ( الانشقاق:۲)آسمان کا شگافتہ ہونا یا پھٹ پڑنا آسمانی بلیّات و کثرتِ حوادث سے مرد ہے۔جیس کہ شدّتب مصائب کے وقت کہتے ہیں کہ آسمان ٹوٹ پرا۔تباہ کن بارشوں کے وقت بھی یوں ہی کہتے ہیں کہ آسمان ٹوٹ پڑا یا پھٹ پڑا۔: جس وقت پہار ارا دئے جاویں۔یعنی بری بڑی قومیں نیست و نابود کر دی جاویں گی۔تاریخوں میں تو بہت کچھ لکھا ہے مگر آنکھوں کے سامنے ہی کا معاملہ ہے کہ وہ شوکت اور قوت سکّھوں کی جو پنجاب میں تھی۔کہاں گئی؟ دوسری جگہ قرآن شریف میں یہی لفظ اس ترتیب سے آیا ہے۔(طٰہٰ: ۱۰۶) : جب رسول وقتِ مقررّہ پر جمع کئے جائیں گے۔قیامت کے روز وقتب مقررّہ پر اپنی اپنی اُمّتوں کا حال بتانے کے لئے رسول تو اکٹھے کئے ہی جائیں گے مگر دنیا میں بھی تحقیق المذاہب کے بڑے بڑے جلسے ، جن میں ہر مذہب کے لیڈروں کو اپنے اپنے بیان کا وقت دیا جاتا ہے۔یہ بھی توقیتِ رسل کا ایک نظارہ ہے۔۔: یہ وعدے کب پورے ہوں گے؟ فیصلہ کے دن پورے ہوں گے۔آخرت میں یہ وعدے پورے ہوں گے۔ہمارا ایمان ہے۔مگر علامات کبرٰی اشراط