حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 296
ہرگز نہیں۔میں ہمیشہ حیران کہ مرد و عورت میں مساوات کا خیال کس احمق نے نکالا۔(نورالدین طبع ثالث صفحہ ۱۳۳ تا ۱۳۴) ۲۱۔۔اور جب دیکھے تو وہاں تو دیکھے نعمت اور سلطنت بڑی۔( فصل الخطاب حصہ اوّل صفحہ ۱۸۴) : حدیث شریف میں ہے کہ جو دوزخی دوزخ سے سب سے آخر میں نکالا جائے گا۔اس کو اﷲ تعالیٰ اس قدر جنّت عطا فرماوے گا۔کہ دنیا و مافیہا اور اس سے دو چند کے مقابلہ کی ہو گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۲۲۔ ۔’’ایک آیہ کے اس سوال جواب میں کہ ریشمی کپڑے۔اتنا سامان کہاں سے آئے گا۔کون بُنے گا۔ریشم کیڑوں کا فضلہ اور لعاب ہے‘‘فرمایا سرب شکتیمان کے خزانہ سے جہاں سے تمام جگ کو ملتا ہے۔سورج کی تیزی قائم رکھنے کے لئے نباتات کو اُگانے کے لئے اور حیوانات کے لئے کس قدر جیزوں کی صرورت ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ الہٰی کارکانہ میں سب کے لئے پورا سامان موجود ہے۔زمین۔پانی ہوا اور خلا میں جس قدر ذی حیات ہیں۔سب کے لئے کس قدر کثرت سے سامان مطلوب ہے۔مگر سرب شکتیمان ہمہ قدرت کے کارخانہ میں سب کچھ موجود ہے۔ذرّہ کمی نہیں۔سرب سکتیمان اور قادر کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوتا ہے۔اور سنوں یہ ریسمی کپڑے وغیرہ نعمتیں تو عظیم الشان پیسگوئی ہے۔عرب خشن یعنی کُھردرے اور سادہ لباس کے عادی تھے۔خدا تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کی جزا میں ان کو بشارت دی گئی۔کہ عنقریب شام و ایران کے شاہی ریشمی لباس تم کو دیئے جائیں گے۔یہ فتحمندی کا وعدہ ہے۔آخر ی ریشمی لباس اُسی کو پہنایا جاتا ہے جس کے مناسب حال ہوتا ہے۔ہم کو بعض وقت ریشمی لباس۔ریشمی تھان اور زیور امراء نے دیئے ہیں۔مگر کبھی ہمارے