حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 297
یا ان کے خیال میں نہیں آیا۔کہ وہ لباس یا زیور ہم پہنیں گے۔وہ جن کے مناسب حال تھا ان کو پہنا دیا گیا۔اور سُنو۔یہ قبل از وقت ہمارے سرور کا مشاہدہ ہے اور قبل از وقت نظارہ کو عربی میں رؤیا کہتے ہیں اور ریشمی لباس کے متعلق علم رؤیا کا پرمان یہ ہے۔اس کو غور کرو۔اور دیکھو کہ ہمارے نبی کریمؐ کے مکاشفات آخر کار کس قدر صحیح اور صادق ثابت ہوئے۔اور جو باتیں اس جہان میں قبل از وقت بطور دعوٰی کے بتائی جا کر روزِ روشن کی طرح اپنا ثبوت آشکار کر دیں ان سے بڑھ کر اور کون شئے صدق کی مُہر اپنے اوپر رکھ سکتی ہے۔اب ان معانی کو رؤیا کی کتابوں میں دکھاتے ہیں۔اَلثِّیَابُ الْخُضْرُ قُوَّۃٌ وَّ دِیْنٌ وَ زِیَادَۃُ عِبَادَۃٍ لِلْاَحْیَائِ وَ لِلْانمْوَاتب حُسْنُ حالٍ عِنْدَ اﷲِ تَعَالٰی ( منتخب الکلام : صفحہ ۱۱۰) لباس سبز سے مراد ہے زندوں کے لئے قوت اور دین اور عبادت میں ترقی اور مُردوں کے لئے اﷲ تعالیف کے نزدیک خوشحالی ہے۔اَلدِّیْبَاجُ وَ الْحَرِیْرُ وَ جَمِیْعُ ثِیَابِ الْاَبْرنسِیم ھِیَ صَالِحَۃٌ لِغَیْرا لْفُتنھَائِ فَاِنَّھا تَدُلّ عَلٰی اَنَّھُمْ یَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا یَسْتنوْجِبُوْنن بِھنا الْجَنَّۃَ ونیُصِیْیُوْنَ مَعَ ذٰلِکَ ربیَاسَۃً دیباج اور ریشم اور ہر قسم کے ریشمی کپڑے فقہاء کے سوا اوروں کے لئے بہت اچھے ہیں۔ان کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ لوگ ایسے عمل کریں گے کہ جن سے جنّت کے حقدار بن جائیں گے اور اس کے علاوہ انہیں ریاست بھی ملے گی۔وَالثّیَابُ الْمَنْسُوْجَۃُ بِالذَّھَبِ وَ الْفبضَّۃِ صَلَاحٌ فِی الدِّیْنِ وَ الدُّنْیَا وَ بُلُوْغُ المُنٰی۔اور سونے اور چاندی کے ساتھ بُنے ہوئے کپڑوں سے مراد ہے بہتری دین میں اور دنیا میں اور مقصد پر پہنچ جاتا۔وَ مَنْ رَایٰ ابنَّہٗ یَمْلِکُ حُلَلًا مِنْ حَرِیْرٍ اَوِ اسْتنبْرَقٍ انوْیَلْبِسْھَا عَلٰی اننَّہٗ تَاجٌ اَوْ اِکْلِیْلٌ مِنْ یَاقُوتٍ فَابنَّہٗ رَجُلٌ ونربعٌ مُتَدَیَّنٌ غَازٍ وَیَنَالُ مَعَ ذٰلِکَ رِیَاسَۃً ( منتخب صفحہ ۱۱۱) جو شخص دیکھے کہ اس کی مِلک میں ریشم اور استبرق کے لباس ہیں یا انہیں پہن رکھا ہے