حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 295 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 295

ہر شخص کو اپنی اپنی کمائی کا بدلہ ملے گا۔اور ہم انہیں میوے اور ان کی پسند کے گوشت دیں گے۔اور اس میں ایسے پیالے پئیں گے کہ ان کا نتیجہ بیہودہ خیالات اور بدکاری نہیں اور ان کے ارد گرد موتیوں کے دانہ جیسے بچے پھریں گے۔باری تعالیٰ فرماتا ہے۔بہشتیوں کی اولاد ان کے پاس پھریگی۔وہاں مومن اولاد کی جدائی کا غم نہ دیکھیں گے۔اور ان کے لئے نہ ترسیں گے۔جب لفظ تۃیم صریح اس کی صفت میں موجود ہے جس کے معنی ہیں نہ گند میں ڈالنا۔پھر آپ کو ایسا ناشایاں خیال کیوں گزرا۔اس معنی کی تفسیر خود قرآن کریم نے سورث دھر میں اَور لفظوں کے ساتھ کی ہے اور وہاں غلمان کے بدلہ ولدان کا لفظ جو ولد یا ولید کی جمع ہے۔فرمایا ہے۔ ۔اور ان کے ارد گرد عمر دراز بچے پھریں گے تم انہیں دیلھ کر یہی سمجھو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں اور سورۃ واقعہ میں ہےؔ ۔بِاَکْوَابِ وّن اَبَارِیْقن وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ(آیت:۱۸،۱۹) اور ان کے ارد گرد عمر دراز بچے کوزوں اور لوٹوں اور خالص نِتھرے صاف پانی کو لئے پھریں گے۔اور اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک بشارت ہے جو فتوحاتِ ایران و روم میں اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوئی۔جوان اور ادھیڑ شاہی خاندان کے شہزادے اور شہزادیاں مسلمانوں کے خادم ہوئے۔مخلّد ادھیڑ کو بھی کہتے ہیں جس کے بال سفید ہو گئے ہوں۔اور سُن حضرت زکریّا فرمتاے ہیں رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِی غُلامٌ ( مریم:۲۱) اے اﷲ مجھے کب بچّے عطا ہوئے۔اور ابراہیم علیہ السلام کی نسبت ارشاد ہے وَبَشَّرْنَاہُ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ ( صافات:۱۰۲)یعنی ہم نے ابراہمؑ کو خوشخبری دی ایک عقلمند بچہ کی اور سیّدنا موسٰی علیہ السلام کے قصّہ میں آتا ہے لَقِیَا غُلَامًا فَقَتَلَہٗ ( کہف: ۷۵) موسٰیؑ اور خضرؑ کے سامے ایک جواب آیا اور خضر نے اس کو قتل کر دیا۔ؤغیرہ وغیرہ میں دیکھو۔اولاد اور جوانوں کو غلام کہا گیا ہے بلکہ قاموس میں لکھا ہے کہ غلام وہ ہوتا ہے جس کی مونچھیں نکل چکیں۔نیز تجھے خبر نہیں کہ عورت اور مرد میں جناب الہٰی نے قدرت میں مساوات رکھی ہی نہیں۔بچہ جننے میں جو تکالیف عورتوں کو ہوتی ہیں۔اُن میں مَردوں کا کتنا حصّہ ہے۔کیا مساوات ہے؟ کیا قوٰی میں مساوات ہے؟