حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 294
سکتا ہے؟ کیا جس کے اوپر بہت سارے حکمران ہوں۔وہ آسودہ حال ہو سکتا ہے۔علاوہ اس کے خاوند کیا آپس میں جنگ نہ کریں گے کیونکہ اگر بہت سارے مرد ایک عورت کے خاوند ہوئے تو ایک وقت ایک چاہتا ہے کہ یہ عورت میرے پاس اور دوسرا چاہے کہ میرے پاس آوے۔اس لئے اوّل تو وہ آپسمیں جُوت پپزار کریں گے۔پھر وہ عورت بہر حال مصیبتوں میں مبتلا ہو گی۔نافہم انسان سوچ اور غور کر۔مگر تم کو غور کا مادہ کیونکر ملے گا۔تمہارا مذہب تو ایسے امور کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ نیوگ میں ایسے امور بہت پیش آتے ہیں۔سُن ! بہشتی نعمتوں میں اسلام بیان کرتا ہے کہ بڑی نعمت خدا کی رضامندی ہے۔دیکھو قرآن کریم۔(توبہ :۷۲) (یونس:۱۱) اور اﷲ کی خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑی ہے۔وہ اﷲ کی پاکیزگی بیان کریں گے۔اور آپس میں سلامتی اور صلہ سے رہیں گے۔اور آخری پکار ان کی یہ ہو گی کہ حمد ہے اﷲ پروردگار کے لئے۔پس سچّے مسلمان الہٰی رضامندی کے گرویدہ ہو کر اس کی عبادت کرتے ہیں۔اس بات کے لئے جس کی نسبت تم نے فضول گوئی کی ہے۔ہاں دنیا کی نعمتیں اور دنیوی عیش و آرام اور دولت مندی آریوں کے اعتقاد میں نیکیوں کا پھل ہے اور ظاہر ہے کہ غلمان بعض دولتمند ہندؤوں کے لوازمات میں داخل ہیں پس کیا یقینا یہ الزام آپ لوگوں پر نہیں ہو سکتا؟ بلکہ جب دیانند کے نزدیک یہی دنیا ہی سورگ اور نیکی کے ثمرات لینے کی جگہ ہے۔گوچند اعمال کے بدلے ارواح چندے شواغل دنیا سے بھی آزادی اور انند میں رہیں گے تو اس صورت میں دیانندی پنتھ کے مطابق غلمان نیکی کے ثمرات نہیں۔تو اور کیا ہیں؟ بات یہ ہے کہ سخت عداوت کے سبب تمہیں غلمان کا قصّہ سمجھ میں نہیں آیا۔یا قرآن کو نہ دیکھا ہے اور نہ سمجھا ہے۔ساماقبل سے پڑھ لیتے تو بشرطِ انصاف تم ایسے خلاف تہذیب امر کے مرتکب نہ ہوتے۔سنئے قرآن کریم میں ہے۔ ۔۔ ۔ہم مومنوں کے ساتھ ان کی مومن اولاد کو ملا دیں گے اور ان کے عملوں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے