حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 293
رکھتا ہے یہ ہے ؎ ابنِ مریم ہوا کرے کوئی مرے دُکھ کی دوا کرے کوئی ۲۰۔ ۔: کے معنوں میں کئی قول ہیں۔مُحَّلَّد بوڑھے کو بھی کہا ہے۔مُحّلَّد اس کو بھی کہا ہے جس کے زُلف سفید ہوں۔مخلّد کے ایک معنے یہ بھی کئے ہیں کہ کانوں کے بُندے بالے پہنے ہوئے۔مگر ان تمام معنوں سے انْسَبْ وہ معنے معلوم ہوتے ہیں۔جن کی مناسبت ولد کے لفظ کے ساتھ ہو۔یعنی دنیا کے وِلدان کی طرح جنّتیوں کے خادمین وِلدان پر مرورزمانہ کی وجہ سے کبھی معمّر ہونے کا زمانہ نہیں آئے گا۔بلکہ باوجود مرورِ زمانہ کے وہ ہمیشہ وِلْدنان ہی وِلْدَان رہیں گے جو کام خدمت گزاری کا پھر تیلی حرکتوں سے چھوٹے بچے کیا کرتے ہیں وہ معمّر نہیں کیا کرتے اور کاربراری میں ان کی خدمات بھی معلوم ہوتی ہیں۔اسی لئے ان کو (یعنی) بکھرے ہوئے موتیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۹۱۲ء) تارکِ دھرم آریہ کے اعتراض’’ عورتوں کو بہت نوجوان یکدم بطور کاوند و پتی ملیں گے۔کیونکہ جب ایک ایک آدمی کو بہت سی حوریں مل گئیں تو ایک ایک عورت کو بہت نوجوان لڑکے ملنے چاہئیں‘‘ کے جواب میں فرمایا:۔’’ آپ کا انصاف ایک شریف الطبع انسان پسند نہیں کر سکتا۔نادان غور کر۔ایک عورت ایک خاوند کے ایک بچہ کو یا اس کے دو تین بچوں کو ایک وقت میں بمشکل پیٹ میں رکھ سکتی ہے۔‘‘؟ یک مرد آج کسی عورت کے بچہ دان کو اپنے نطفہ سے مسعول کر دے اور دوسرے دن دوسرے کے۔تیسرے دن تیسرے کے۔علیٰ ہذا سال بھر تین سو ساٹھ بچہ مختلف رحموں میں پرورش کے لئے دے سکتا ہے۔ہاں مرد قوی بہت عورتوں کے رحم میں بیج ڈال سکتا ہے۔اس لئے عورتوں کو بہت نوجوانوں کا ملنا بے انصافی ہے اور اسی پر دُکھ ہے۔نیز مرد ایک گو نہ عورتوں پر حکمران ہے۔پس ایک مرد کے لئے بہت عورتیں ہوں تو عورت کو آرام ہے کہ مرد کی حکومت اس کے سر سے کچھ ہت گئی یا ایک عورت کے لئے بہت خاوند ہوں تو کیا عورت کو آرام مِل