حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 25

کیا تمہارے ساتھ رہنے والے نے اور نہ کبھی علمِ صحیح کے خلاف کرنے کا ملزم ہوا۔پہلی وجہ عدمِ تسلیم کا جواب تو یہ ہے کہ چالیس برس کامل کے تجربہ سے دیکھ لو۔یہ شخص محمد امین ( بابی واقی صلی اﷲ علیہ وسلم) بھلا اس میں کوئی عیب رکھنے کی بات ہے۔دوسری وجہ کا جواب یہ ہے کہ مَاضَل جس کے معنے ہیں کبھی نہ بھولا۔ہمیشہ تمہاری اور اپنی بہتری کی جو تدبیر نکالی وہ تدبیر آخر مثمر ثمرات نیک ہوئی۔تیسری وجہ کا جواب دیا۔وَمَاغَوٰی۔چالیس برس تمہارے ساتھ رہا اور تمہارا صاحب کہلایا مگر کبھی کسی بدعملی کا ملزم ہوا؟ ہرگز نہیں۔چالیس برس تک جس نے راستی اور راست بازی کا برتاؤ کیا۔جس کے ہاتھ پر صدیق نے بھی بیعت کی۔جس کے سینکڑوں مریدوں میں سے ایک بھی تبلیغ احکامِ اسلام میں کذب کا ملزم نہ ہوا۔وہ جس نے کبھی مخلوق پر افتراء نہ باندھا اب وہ کیا ہماری ذات پاک پر مفتری ہو گا؟ ہرگز نہیں۔اگر اپنے پہلے تجارب اور اپنے پہلے معلومات صحیحہ پر نظر کرو گے اور اس کے چالیس سال کے برتاؤ سے پتہ لو گے تو یہ نتیجہ نکلے گا۔وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی اور سُنو! اس کے علوم اور اس کی ہدایات کسی کمزور معلّم کی تعلیم کا نتیجہ نہیں اور نہ ایسا ہے۔کہ یہ پورا تعلیم یافتہ نہ ہو۔اس کی تعلیم تو اس کی نبوّت اور رسالت کا عمدہ نشان ہے۔اس کی تعلیم بڑے طاقت ور معلم کی تعلیم ہے اور یہ بھی تعلیم کے اعلیٰ مدارج پر پہنچ کر ٹھیک اور درست ہو چکا ہے۔یہی معنی ہیں آیات ثلٰثہ: اور نہیں بولتا اپنی خواہش سے مگر جو بولا وہ الہٰی الہام ہے جو بھیجا گیا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۹۳۔۱۹۵) جب کوئی ہادی دنیا میں آتا ہے تو اس کی شناخت کے کئی طریق ہوتے ہیں۔اوّلؔ۔جاہل اور بے علم نہ ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ہادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ نادان اور بے خبرنہ ہو۔اب کتاب اﷲ کو پڑھو اور دیکھو کہ جو معارف اور حقائق اس میں بیان کئے گئے ہیں۔وہ ایسے ہیں کہ کسی جاہل اور نادان کے خیالات کا نتیجہ ہو سکتے ہوں۔سوچو! اور پھر سوچو!!! نادان ایسی معرفت اور روح و راستی سے بھری ہوئی باتیں نہیں کر سکتے۔دومؔ۔وہ ہادی اجنبی نہ ہو۔کیونکہ ایک ناواقف انسان دور دراز ملک میں جا کر بدکار اور شریر ہونے کے بھی چند روز تصنّع اور ریاکاری کے طور پر اپنے آپکو نیک ظاہر کر سکتا ہے۔پس ہادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کا واقف ہو۔اب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دعوٰے صاف ہے کہمَاضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَاغَوٰی۔تیسری بات یہ ہے کہ ہادی یا امام مرشد اپنے سچے علوم کے مطابق عمل در آمد بھی کرتا ہو۔اوروں کو بتلادے