حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 284 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 284

نہ بناوے تو کیونکر دُکھوں اور ذلّتوں سے بچ سکتا ہے۔یاد رکھو کہ حکمِ حاکم کی نافرمانی حسب حیثیت حاکم ہوا کرتی ہے۔یہ ذلّت بھی اسی قدر ہو گی جس قدر کہ حاکم کے اختیارات ہیں۔دنیا کے حاکم جو ماحدود حکومت رکھتے ہیں ان کی نافرمانی کی ذلّت بھی محدود ہی ہے مگر خدا تعالیٰ جو غیر محدود اختیارات رکھتا ہجے اس کے حکم کی خلاف ورزی میں ذلّت بھی طوریل ہو گی۔تو یہ سچ ہے کہ سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ عَلٰی غَضَبِیْ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے مگر جیسیکہ اس کی طاقتیں وسیع ہیں اسی انداز سے نافرمان کی ذلّت بھی ہونی چاہیئے۔اور ہو گی ہاں بہت سی سزائیں ایسی ہیں کہ انسان ان کو دیکھتا ہے اور بہت سی سزائیں ہیں کہ ان کو نہیں دیکھ سکتے تو غرض یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خدا کے قانون اور حکم کی اگر پرواہ نہ کریں گے تو کیا نقصان ہے؟ نہیں نہیں خبردار ہو جاؤ۔مولیٰ فرماتا ہے۔ ۔منکر کو تین قسم کی سزادیں گے۔ہر ایک انسان کا جی چاہتا ہے کہ میں آزاد رہوں جہاں میری خواہش ہو وہاں پہنچ سکوں پھر چاہتا ہے کہ جہاں چاہوں حسبِ خواہش نظارہ ہائے مطلوبہ دیکھوں اور آخر جی کو خوش کروں کہیں جانا پڑے تو جاؤں اور کہیں سے بھاگنا پڑے تو وہاں سے بھگوں اور کسی چیز کو دیکھنا پڑے تو اسے دیکھوں بہر حال اپنا دل ٹھندا رکھوں۔خدا تعالیٰ نے اوّلاً تین ہی نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔عطائِ وجود۔عطائِ سمع۔عطائِ بصر۔ان نعمتوں سے اگر کوئی جاتی رہے تو کیا سچی خوشی اور حقیقی راحت مل سکتی ہے کبھی نہیں۔پھر خاص الخاص نعمت جو انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ ملی ہے اس کے انکار سے کب راحت پا سکتا ہے؟ قانونِ الہٰی اور شریعت خداوندی کو توڑتا ہے کہ راحت ملے؟ مگر راحت کہاں؟دیکھو ایک نابکار انسان حدود اﷲ کو توڑ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے کہ اسے لذّت و سرور ملے مگر نتیجہ کیا ہے کہ اگر آتشک اور سوزاک میم مثلاً مبتلا ہو گیا۔تو بجائے اس کے جسم کو راحت و آرام پہنچاوے۔دل کو سوزش اور بدن کو جلن نصیب ہوتی ہے۔قانونِ الہٰی کو توڑنے والے کو راحت کہاں؟ پھر اس کے لئے