حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 281
تو اسے اﷲ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو گی اور روز بروز محبت برھے گی۔اور جب محبت بڑھ گئی تو وہ اپنی تمام خواہشوں کو رضاء الہٰی کے لئے متوجہ کر سکے گا اور اس رضاء الہٰی کو ہر چیز پر مقدّم سمجھ لے گا۔دیکھو سب سے بڑا اور عظیم الشّان احسان جو ہم پر کیا وہ یہ ہے کہ ہم کو پیدا کیا۔اگر کوئی دوست مدد دیتا ہے تو ہمارے پیدا ہونے اور موجود ہونے کے بعد اگر کوئی بھلی راہ بتلا سکتا ہے یا علم پڑھا سکتا ہے۔مال دے سکتا ہے غرض کہ کسی قسم کی مدد دیتا ہے تو پہلے ہمارا اور اس چیز کا اور دینے والے کا وجود ہوتا ہے۔تب جا کر وہ مدد دینے والے مدد دینے کے قابل ہوتا ہے۔غرض تمام انعاموں کے حاصل کرنے سے پیستر جو کسی غیر سے ہوں پہلا اور عظیم الشان احسان خدا تعالیف کا یہ ہے کہ اس نے ہم کو اور اس چیز کو جس سے ہمیں راحت پہنچتی اور جس نے ہمیں راحت پہنچتی اس کو وجود عطا کیا پھر صحت و تندرستی عطا کی اگر دن بھی بیماری ہو جاوے تو تمام راحت رساں چیزیں بھی راحت رساں نہیں رہتیں۔دانت درد کرے تو اس کا نکالنا پسند ہو جاتا ہے آنکھ دُکھ دینے کا باعث بن جاوے تو گاہے اس کو نکالنا ہی پڑتا ہے۔برادران جب بیماری لاحق ہوتی ہے تب پتہ لگتا ہے۔کہ صحت کیسا انعام تھا۔اس صحت کے حاصل کرنے کو دیکھو کس قدر مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔طبیبوں کی خوشامد۔دعا والوںگ تعویذ توٹکے والوں کی منتیں، غرض قسم قسم کے لوگوں کے پاس جن سے کچھ بھی امید ہو سکتی ہے انسان جاتا ہے۔دواؤں کے خرید کرنے میں کتنا ہی روپیہ خرچ کرنا پڑے بلادریغ خرچ کرتا ہے۔ایک آدمی مرنے لگتا ہے تو کہتے ہیں دو باتیں کرا دو خواہ کچھ ہی لے لو۔حالانکہ اس نے لاکھوں باتیں کیں۔چونکہ ان لوگوں کو جو احسانات کا مطالعہ نہیں کرتے خبر بھی نہ تھی غرض یہ سب انعامات جو ہم پر ہوتے ہیں ان میں سے اوّل ار بزرگ ترین انعام وجود کا ہے جو اﷲ تعالیف نے دیا ہے پس اس سورۃ شریفہ میں اوّل اسی کا ذکر فرمایا۔: انسان پر کچھ زمانہ ایسا بھی گزرا ہے یا نہیں؟ کہ یہ موجود نہ تھا۔میری حالت کو دیکھو اس وقت میں کھڑا بول رہا ہوں مگر کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ سو اسّی برس پیشتر میں کہاں تھا؟ اور میرا کیا مذکور تھا۔کوئی نہیں بتلا سکتا یہ جناب الہٰی کا فیضان ہے کہ ایک ذرا سی چیز سے انسان کو پیدا کیا چنانچہ فرماتا ہے ہم نے انسان کو نُطفہ سے بنایا۔نطفہ میں صدہا چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان بنتا ہے۔