حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 280
نہ ہوا۔پہلے ہی مر گیا! تم بُرے اعمال چھوڑ دو۔لین دین میں لوگ برے نکمّے ہو گئے ہیں۔توبہ کرو۔استغفار کرو۔اﷲ تعالیٰ بڑے سخت لفظ استعمال فرماتا ہے۔کہ کوئی تو ہماری بتائی ہوئی بدایت کا شکر گزار وہوتا ہے اور کوئی نہیں ہوتا۔۔ہم نے تو بے ایمانوں کے لئے بڑے بڑے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ہم ان کو زنجیروں میں جکڑیں گے اچھے لوگوں کو خدائے تعالیٰ ایک شربت پلانا چاہتا ہے اور وہ ایسا شربت ہے کہ ان کو اپنی بدیوں کو دبانا پڑتا ہے۔ابرار انسان تب بنتا ہے جب وہ اپنے اندر کی بدیوں کو دباتا ہے نفس کے اوپر تم حکومت کرو۔بہت سے لوگ ہیں۔جو اپنے نفس پر حکومت کرنے سے بے خبر ہیں۔: اﷲ کے بندے ایسے شربت پیتے ہیں وہ ان کو بھاتے ہیں دوسروں کو بھی پلانا چاہتے ہیں۔مَیں نے تم کو بہت سا پلایا ہے۔تم عمل کرو اور خدا تعالیٰ سے ڈرو۔(بدر حصّہ دوم ۵؍دسمبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۹۳۔۹۴) یہ ایک وہ سورہ شریف ہے جو جمعہ کے دن فجر کی نماز کی دوسری رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ اس میں اوّل اپنے ان احسانات کا تذکرہ فرماتا ہے جو مولیٰ کریم نے انسان پر کئے ہیں اس تذکرہ کی وجہ یہ ہے کہ اگر آدمی کی فطرۃ اچھی ہو اور وہ سعادت مند ہو۔فہیم ہو۔عقل کی ماراس پر نہ پڑی ہو تو یہ بات ایسے انسان کی سرشت میں موجود ہے کہ جو کوئی اس پر احسان کرے تو محسن کی محبت طبعًا انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔اسی طبعی تقاضائے فطرۃ کی طرف ہمارے سیّد و مولیٰ محمّد مصطفٰے احمد مجتبٰے صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایما کر کے ارشاد فرمایا ہے جُبِلَتِ القُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا یعنی انسانی سرشت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرتا ہے۔اسی قاعدہ اور تقاضا، فطرۃ کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ طرز بھی اختیار کیا ہے کہ سعادت مندوں کو اپنے احسان و انعام یاد دلاتا ہے کہ وہ محبت الہٰی سے محبت ترقی کرے پھر یہ بات ابھی انسان کی فطرت میں ہے کہ جب انسان کسی سے محبت بڑھا لیتا ہے تو محبوب کی راضامندی کے لئے اپنا وقت، اپنا مال، اپنی عزّت و آبرو غرض ہر عزیز دے عزیز چیز کو خرچ کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کے مطالعہ کی عادت پر جاوے