حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 279
میں مر جاتے تو آج تم کو قرآن سنانے کا کہاں موقع ملتا؟ اس نے کیسے کیسے فضل کئے !۔ہم نے اپنے فضل سے اس نطفہ کو جس میں ہزاروں چیزیں ملی ہوئی تھیں۔سننے والا اور دیکھنے والا بنا دیا۔اب مسلمان کہتے ہیں کہ تجارت ہمارے ہاتھ میں نہیں۔کہتے ہیں حکومت ہمارے ہاتھ میں نہیں۔صرف سو برس کے اندر ہی اندر انہوں نے سب کچھ اپنا کھو دیا۔شرک کا کوئی شعبہ نہیں جس میں مسلمان گرفتار نہیں۔نماز۔روزے۔اعمالِ صالحہ میں قرآن کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں نہایت ہی سُست ہیں۔کوئی ملّاں ہو اور وہ خوب شعر سنائے تو کہتے ہیں کہ فلاں مولوی صاحب نے خوب وعظ کیا! کسی عورت نے مجھے سے پوچھا کہ فلام عورت ایک عرس میں گئی تھی وہ کہتی تھی کہ سُبحان اﷲ ہر طرف نُور ہی نور برس رہا تھا۔مَیں نے کہا۔وہ کیا تھا۔کہنے لگی کہ وہ کہتی تھی کہ اندر بھی باہر بھی مراسی ڈھولک بجا رہتے تھے اور خوب خوش الحانی سے گا رہے تھے! ریل میں مجھے ایک کنچنی ملی۔میں نے اس سے کہا کہ تُو کہاں گئی تھی۔کہا کہ سبحان اﷲ فلاں حضرت کے یہاں گئی تھی۔انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ ہماری فقیرنی آ گئی ہے اور اپنے خادم سے کہا اس کو تین سو روپے دیدو! مَیں تو ایک دم میں مالا مال ہو گئی! مسلمانوں میں تکبّر بڑھ گیا۔سُستی ہے۔فضول خرچی ہے اور فضول خرچی کے ساتھ تکبّر بھی از حد بڑھ گیا ہے۔اپنی قیمت بہت بڑھا رکھی ہے۔سمجھتے ہیں۔کہ ہم تواس قدر تنخواہ کے لائق ہیں! ہم نے انسان پر بڑے فضل کئے۔ یہاں تک کہ انسان کو دیکھنے والا سننے والا بنایا۔پھر قرآن کے ذریعہ سے اس پر ہدایت کی راہیں کھول دیں۔۔پر کسی نے قدر کی۔کسی نے نہ کی۔۔کوئی مسلمان کہتا ہے کہ جھوٹ جائز ہے۔کوئی مسلمان کہتا ہے کہ تکبّر اور فضولی اور قسم قسم کی بدکاریاں جائز ہیں۔برائی سب جانتے ہیں مگر افسوس کہ قدر نہیں کرتے۔دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں۔مگر خود عمل نہیں کرتے۔ایک عورت کا میاں شراب پیتا تھا۔اس کو میں نے کہا۔وہ تم سے بہت محبّت کرتا ہے۔تم اس سے سراب چھڑا دو۔اس نے کہا کہ میں نے ایک روز اس کو کہا تھا تو اس نے مجھے جواب دیا تھا کہ یہ تجھے نور الدّین نے کہا ہو گا۔جب میں اس کی عمر کا ہو جاؤ ں گا تو چھوڑ دوں گا۔پھر اس کو میری عمر تک پہنچنا نصیب