حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 274

۔۔۔ایسا نہ ہو گا جس وقت سانس ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کون افسوس کرنے والا ہے ( جو اسے اب بجا لے) اور ( مریض ) یقین کرتا ہے۔کہ اب جُدائی کا وقت ہے اور سخت گھبراہٹ اس پر طاری ہوتی ہے۔اس وقت چلنا تیرے ربّ کی طرف ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۰۴) : اگلے کی ہنسلی کی جگہ۔رَقیٰ، یَرْقِی، رقیًا سے ماخوذ ہے۔: اس کے کئی معانی ہیں۔ایک تو یہ کہ رقیہ سے مشتق ہے۔جیسے بِسْمِ اﷲِ اَرْقِیْکَ اس صورت میں جھاڑ پھونک کے معنے ہوں گے۔دوسرے یہ کہ رَقیٰ یَرقی رقیاً سے۔اس صورت میںراقٍ کے معنے اوپر لے جانے کے ہوں گے اور اس کے کہنے والے فرشتہ ہوں گے۔نہ میّت کے پاس والے۔فرشتہ عذاب کے اور رحمت کے آپس میں پوچھیں گے کہ رحمت کے فرشتے روح کو آسمان پر لے چڑھیں گے یا عذاب کے۔: حضرت عباسؓ فرماتے ہیں۔نزع روح کے وقت دنیا کا آخر اور آخرت کا اول وقت ملتا ہے۔یہی لَفِّ سَاقَیْن ہے۔حسن کہتے ہیں لَفِّ سَاقَیْنسے مراد کفن کا پندلیوں میں لپٹینا مراد ہے۔ایک قول یہ بھی ہے۔کہ لَفّ ساق اصطلاح میں شدّت مصیبت سے کنایہ ہے۔دنیا کی مفارقت کا غم اور آخرت کے حساب و کتاب کا جھگڑا۔یہ دونوں مل کر لفّ ساقین ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ اپریل ۱۹۱۲ء) ۳۲،۳۳۔۔۔: تصدیقِ رسول کو نماز پر بھی مقدّم رکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔نمازی کنی و قبلہ رانمی دائی ندانمت چہ غرض زیں نماز ہا باشد جماعت میں جن احباب کو غیر احمدیوں کی امامت کے مسئلہ میں تحقیق منظور ہو۔وہ اس آیت میں صلوٰۃ پر تصدیق کے مقدّم ہونے پر غور کریں۔بعد تصدیقِ رسول یا امامِ زمان کے پہلی بات جس کا یوم القیامۃ حساب ہو گا وہ نماز ہے۔حدیث شریف میں ہے۔