حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 272 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 272

بدنتائج اور بد اثر سے مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان بدیوں سے محفوظ فرما۔یہ ہیں استغفار کے مختصر سے معنے۔( بدر ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۴، الحکم ۲۶؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ) ۱۷ تا ۲۰۔۔۔۔۔نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان کہ شتاب اس کو سیکھ لے۔وہ تو ہمارا ذمّہ ہے۔اُس کو سمیت رکھنا اور پڑھانا۔پھر جب ہم پرھنے لگیں تو ساتھ رہ تُو اس کے پڑھنے کے پھر ہمارا ذمّہ ہے اس کو کھول بتانا۔( فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۲۷) : آیت باب ذوالمعارف ہے اس کے دو ترجمے ہیں۔ربط ماقبل کے لحاظ سے ایک معنے یہ ہیں کہ ’’ اے معذرت کنندہ۔عذر بیان کرنے میں تیز زبانی نہ کر‘‘ اس صورت میں جَمْعَہٗ میںہٗ کی ضمیر انسان کے اعمال کی طرف سے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ پڑھنے والا جب قرآن شریف پڑھے تو جلدی نہ کرے۔لوگ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کو جامع القرآن بتاتے ہیں۔یہ بات غلط ہے۔صرف عثمانؓ کے لفظ کے ساتھ قافیہ ملایا ہے۔ہاں شائع کنندہ قرآن اگر کہیں تو کسی حد تک بجا ہے۔آپ کی خلافت کے زمانہ میں اسلام دور دور تک پھیل گیا تھا۔اس لئے آپ نے چند نسخہ نقل کرا کر مکّہ۔مدینہ۔شام۔بصرہ۔کوفہ اور بلاد میں بھجوا دئے تھے۔اور جمع تو اﷲ تعالیٰ کی پسند کی ہوئی۔ترتیب کے ساتھ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ہی نے فرمایا تھا اور اسی پسندیدہ ترتیب کے ساتھ ہم تک پہنچایا گیا۔ہاں اس کا پڑھنا اور جمع کرنا ہم سب کے ذمّہ ہے۔: ہمارے ایک دوست ہافط محمد اسحاق صاحب کی الہامی دلیل ہے جو ان کو بزریعہ الہام کے بتلائی گئی۔کہ بدلیل اس آیت کے سورۃ الفاتحہ خلف امام سات آیتوں کے ہر ہر وقفے کے درمیان امام کے سکتہ کے وقت مقتدی بھی اپنے ممنہ میں چُپکے چُپکے پڑھ لیا کرے۔حدیث شریف میں سورث فاتحہ کو ھِیَ السَّبْعم الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنُ الْعَظِیْمِ فرمایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ اپریل ۱۹۱۲ء)