حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 268 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 268

۲۔قوم کی قیامت۔جیسا کہ بنواُمیّہ پر سو سال کے بعد قیامت آئی۔اور وہ زبان عربی کے بولنے والے حکّام پر قیامت تھی۔۳۔۔حج:۴۸) حدیث شریف میں آیا ہے۔کیا میری اُمّت آدھا دن نہ کاٹے گی۔اہلِ اسلام کا عروج قریب پانچ سو سال رہا۔۴۔ہزار سال کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمّت میں بہت رَوْلا پڑ گیا۔یہ بھی ایک قیامت ہے۔۵۔یوم الساعۃ ۶۔یَوْمَ الْقیَامَۃِ: مصیبت کے وقت کو بھی کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اپریل ۱۹۱۲ء) اس سورۃ شریف میں اﷲ تعالیٰ ایک فطرت کی طرف لوگوں کو توجہ دلاتا ہے۔قرآن کریم کو اﷲ تعالیٰ نے ذِکّر فرمایا ہے۔مطلب یہ کہ تمہاری فطرت میں سب قسم کی نیکیوں کے بیج بودئے تھے۔ں ان کو یاد دلانے اور ان کی نسوونما کے لئے قرآن کریم کو نازل کیا۔وہ جو فطرتوں کا خالق ہے اس نے قرآن کریم کو نززل فرمایا ہے۔مسیحی لوگوں کو ایک غلطی لگی ہے۔پولوس کے خط میں ہے کہ یہ شریعت اس وجہ سے نزال ہوئی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ تم شریعت کی پابندی نہیں بجا لا سکتے۔گویا شریعت کو نزال کر کے انسان کی کمزوری کا اس پر اظہار کرتا تھا اس لئے پلید تعلیم دی گئی کہ نجات کی راہ سریعت کو نہ مانو۔مَیں نے بعض مشنریوں سے پوچھا ہے۔کہ جب شریعت کی پابندی تم سے نہیں ہو سکتی۔تو تمہارے جو اور قوانین ہیں۔ان کی پابندی تم کیسے کرتے ہو۔ہر ایک انسان جب بدی کرتا ہے تو اس بدی کے بعد اس کا دل اس کو ملامت کرتا ہے اور ہر سلیم الفطرت اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ہر بدی کے ارتکاب کے بعد اس کا دل اس کو ملامت کرتا ہے کہ تو نے یہ کام اچھا نہیں کیا۔گو کسی وقت ہو۔مَیں نے لوگوں سے اور اپنے نفس سے بھی پوچھا ہے۔چنانچہ جواب اثبات میں ملا۔چور کو چوری کے بعد ایسی ملامت ہوتی ہے۔کہ وہ چوری کے اسباب کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا۔اسی طرح ڈاکہ ڈالنے والے اور قاتل دونوں ارتکابِ جُرم کے بعد کہیں بھاگنا چاہتے ہیں۔اسی طرح جھوٹا آدمی جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کے بعد اس کو ملامت ہوتی ہے کہ یہ بات ہم نے جھوٹ کہی۔عرض ہر بدی کے بعد ایک ملامت ہوتی ہے۔جس بدی کو انسان کرتا ہے اسی بدی کے متعلق اگر اس سے تفسیش کی جائے