حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 267
سُوْرَۃَ الْقِیٰمَۃِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔لَا کو اکثروں نے زائد بتایا ہے۔اور حدیث شریف میں ہر ہر حرف پر دس دس نیکیوں کا ثواب مذکور ہے۔جب بات سمجھ میں نہ آئی۔تو وہ زائد ہی ہوئی۔کفّار کو جس قدر بعث بعد الموت کے مسئلہ پر انکار و اصرار تھا۔ایسا کسی دوسرے مسئلہ پر سوائے شرک کے نہیں تھا۔چنانچہ نہایت ہی تعجب ہے۔کفّار نے کہا۔ (سبا:۸) ادھر سے انکار پر اس قدر اصرار تھا اور ادھر اثبات بعد اموت پر جگہ جگہ زور دیا گیا ہے۔اس ردّ و کد کو مدّنظر رکھ کر مخاطب کے مافی الضمیر پر انکاری طریق کلام کا افتتاح’’ لا‘‘ کے لفظ سے فرمایا ہے۔یعنی قَوْلہٗ تعالٰی:(تغابن:۸) میں جو زعم کے منکران بعث بعد الموت کے ضمیر میں رچا ہوا تھا۔اس کی نفی ’’ لا‘‘ کے لفظ سے کرتے ہوئے کلام کو شروع کیا۔اس قسم کا محاورہ ہر زبان میں ہوا کرتا ہے۔جس کو مخاطبِ سخن بلاشک و شبہ پہچان لیتا ہے۔کہ یہ’’ لا‘‘ میرے مافی الضمیر کا ردّ ہے۔اس کے یوم القیامہ اور نفس لوّامہ کو بعث بعد الموت پر اس طور پر گواہ ٹھہرایا ہے۔کہ یوم القیامہ سے جنگ کی مصیبت کا دن اور اپنے نفس پر کفّار کی ملامت کا اعتراف ثبوتِ دعوٰی بن گیا۔دنیا میں جنگ کے لئے محشور ہونا آخرت کے حشر کے لئے اور دنیا کی شکستوں پر اپنے نفسوں کو ملامت کرنا آخرت کے جزا و سزا کے لئے ثبوت ٹھہرا۔قیامۃ: کھڑا ہونا ۱۔مَنْ مَاتَ فَقَدْقَامَتْ قِیَامَتُہٗ۔