حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 266
شاہ عبدالقادر صاحب موضہؔ القرآن حاشیہ میں فرماتے ہیں۔’’ہر کوئی نبی ہوا چاہتا ہے کہ کُھلی کتاب پاوے آسمان سے‘‘ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۵۶، ۵۷۔۔ ۔معدوم کو موجود کرنا خدا کا کام ہے۔مخلوق میں۔ہاں حیوان اور انسان کے دل میں کسی ارادے اور مشیّت کا پیدا کرنا بیشک باری تعالیٰ کا کام ہے۔الّاہر ایک منصف جانتا ہے کہ صرف مشیّت اور ارادے کے وجود سے کسی فعل کا وجود ضروری اور لازمی امر نہیں۔یقینا قوٰی فطری کا خلق اور عطا کرنا جن پر ہر گونہ افعال کا وجود و ظہور مترتب اور مُتَفَرّع ہو سکتا ہے۔خالق ہی کا نام ہے۔اس لطیف نکتہ کے سمجھانے کے لئے اور نیز اس امر کے اظہار کرنے کو قوٰی طبعی اور کائنات سے کوئی وجود اصل امرِ خلق میں شریک نہیں۔سب اشیاء کی علت العلل مَیں ہی ہوں۔باری تعالیٰ سب افعال کو بلکہ ان افعال کو بھی جو ہم معائنہ اور مشاہدہ کے طور پر انسان اور حیوان سے سرزد ہوتے دیکھتے ہیں۔اپنی نسبت کرتا ہے۔کہیں قرآن میں فرماتا ہے۔ہوا بادلوں کو ہانک لاتی ہے۔کہیں فرماتا ہے۔ہم بادلوں کو ہانکتے ہیں۔ہم ہی گایوں اور بھینسوں کے تھنوں میں دودھ بناتے ہیں۔ہم ہی اناج بوتے ہیں۔ہم ہی کھیت اُگاتے ہیں۔اور تأَمّل کے بعد یہ سب نسبتیں جو ظاہرًا متضاد الطرفین ہیں۔بالکل صحیح اور حقیقۃً بالکل صداقت ہے۔( فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۶۲) : کو مقدّم اس لئے رکھا کہ سوائے اﷲ تبارک و تعالیٰ کے دوسرا کوئی اہل نہیں کہ اس پر جان فدائی کی جاوے جیسے فرمایا (مومن:۶۶) تقوٰی کے ساتھ مغفرت کو اس لئے قرین رکھا۔کہ ہر نبی ولی نے تقوٰی کی تیز اور خونخوار راہوں میں اپنی بشری کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے۔حضرت اقدس مرحوم و مغفور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: در کوئے تُو گر سرب عشّاق راز نند اوّل کسے کہ لافِ تعشّق زند منم (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ اپریل ۱۹۱۲ء)