حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 265
۳۹۔۔ہر شخص کو اس دنیا میں بھی اپنے اپنے اعمال کے موافق جزا سزا مل رہتی ہے۔میں نے دیکھا ہے۔ایک شخص نے ناجائز کمائی سے ایک مکان تعمیر کرایا۔آکر نہ خود اس کو اُس مکان میں رہنا نصیب ہوا اور اُس کی اولاد بھی ایسے مکان میں نہیں رہتی۔بخلاف صالح انسان کے کہ خدا اس کی اولاد کا بھی متکفل رہتا ہے۔یتیم بچوں کا کوئی نیک عمل نہ تھا۔مگر کَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا ( کہف : ۸۳)فرمیا اور باپ کی صلاحیت بیٹوں تک کو مفید ہوئی۔یہی حال ہر شخص کا اپنے اعمال میں مرہون رہنا ہے۔ایک شخص کے اگر آتشک ہوتی ہے تو کی پست تک یہ موذی مرص اس کی اولاد میں چلا جاتا ہے۔۵۱۔۔حُمُرٌ جمع ہے حمار کی۔حمار کو حمار اس مناسبت سے کہتے ہیں۔کہ اس کی چیخ پکار کے وقت اس کی انکھیں سُرخ ہو جاتی ہیں۔اسی طرح ہر صادق کے مقابلہ میں گدھوں کی طرح مخالفوں کا سخت غیط و غصب ہوتا ہے۔جہاں سخت مخالفت ہوتی ہے۔اس کے بالمقابل حق ضرور ہوتا ہے۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: زِ اوّل چُنیں مجوش ببین تا بآخرم ۵۲۔۔: قَسَرَسے مشتق ہے۔جس کے معنے قہر اور غلبہ کے ہیں۔اہل عرب بولا کرتے ہیں۔لُیُوْثٌ قَسَاوِرَۃ۔لیوث جمع لَیْث کی ہے۔لَیْثَ بمعنی شیر۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔اَلْقَسْوَرَۃُ ھِیَ الْاُسُدُ۔قَسورۃ اُن تیراندازوں کی جماعت کو بھی کہتے ہیں۔جو جنگلی گدھوں کا شکار کرتی ہیں۔۵۳۔۔