حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 255

بلکہ بال بال پر ایک خاص خوبصورتی آ جاتی ہے۔پس اسی حالت میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ مخاطب فرما کر کہتا ہے کہ اے کپڑا اوڑھنے والے اور لرزہ کے واسطے سامان اکٹھا کرنے والے کھڑا ہو جا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سُست مومن اﷲ تعالیٰ کو پیارا نہیں۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو پہلا حکم یہی ملا پس یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمان واعظ جب احکامِ الہٰی سنانے کے واسطے کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہو کر سناتے ہیں۔یہ اسی قُمْ کی تعمیل ہوتی اور اس میں نبی کریمؐ کی اتباع کی جاتی ہے۔بعض لوگ غافل اور سُست نہ تو سامان بہم پہنچاتے اور نہ ان سامان سے کام لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں فرصت نہیں پر یہ ساری ضرورتیں جو ہم کو ہیں۔نبی کریمؐ کو بھی تھیں۔بیوی بچّہ۔اہل و عیال وغیرہ وغیرہ۔پر جب اس قسم کا حکم آیا۔فورًا کھڑے ہو گئے۔اس لئے کہ بادشاہ رَبُّ الْعَالَمِیْن اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن کا حکم تھا۔پھر کام کیا سپرد ہوا۔أَنَٔذِرْ۔لوگ دو باتوں میں گرفتار تھے اور ہیں۔وہ خدا کی عظمت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور کھانے پینے عیش و آرام اور آسائش میں مصروف ہو گئے تھے۔دوسرا باہمی محبت۔اخلاص۔پیار نام کو نہیں رہی تھی۔دوسروں کے اموال دھوکہ بازی سے کھا جاتے۔مثلاً ہمارے پیشہ کی طرف ہی توجہ کرو۔گندے سے گندے نسخے بڑی بڑی گراں قیمتوں سے فروخت کئے جاتے۔اور دھوکہ بازی سے لوگوں کا مال کھایا جاتا ہے۔دوسروں کی عزّت مال جان پر بڑے بے باک تھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ کسی نابینا کی لکڑی ہنسی سے اٹھا لینا کہ وہ حیران و سرگردان ہو سخت گناہ ہے۔پھر ہنسی ٹھٹھا پر کچھ پرواہ نہیں۔بدنظری۔بدی۔بدکاری سے پرہیز نہیں۔کوئی شخص نہیں چاہتا کہ میرا نوکر میرے کام میں سُست ہو۔پر جس کا یہ نوکر ہے۔کیا اس کے کام میں سستی نہیں کرتا؟ دوکاندار ہے۔طبیب ہے وغیرہ وغیرہ۔جب پیشہ دینے والے کے دل میں یہ ہے کہ مجھے ایسا مال اس قیمت کے بدلہ میں ملنا چاہیئے۔اگر اس کو اس نے نتیجہ تک نہیں پہنچایا تو ضرور حرام خوری کرتا ہے اور یہ سب باتیں اس وقت موجود تھیں۔خدا کی پرستش میں ایسے سُست تھے کہ حقیقی خدا کو چھوڑ کر پتھر۔حیوانات وغیرہ مخلوقات کی پرستش شروع کی ہوئی تھی۔اس قوم کی بُت پرستی کی نظیریں اب موجود ہیں۔ابھی ایک بی بی ہمارے گھر میں آئی تھی اور میرے پاس بیان کی کہ بہت نیک بخت اور خدا رسیدہ ہے۔مَیں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وظیفہ کرتی ہو؟ کہا مشکل کے وقت اپنے پیروں کو پکارتی ہوں۔پس مجھے خیال ہوا۔یہ پہلی سیڑھی پر خطا پر ہے یعنی خدا کو چھوڑ کر شرک میں مبتلا ہے۔