حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 254
سُوْرَۃَ الْمُدَّثِّرِ مَکِّیَّۃٌ ۲تا۵۔۔۔۔۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو پہلی وحی کے بعد جو دوسری وحی ہوئی وہ یہی آیت ہے۔ کو جب وحی ہوتی ہے تو اس پر خدا کی کلام اور اس کی ہیبت کا ایک لرزہ مُرسل پر آتا ہے۔کیونکہ مومن حقیقت میں خدا تعالیٰ کا ڈر اور خشیت اور خوف رکھتا ہے۔جس طرح کوئی بادشاہ ایک بازار یا سڑک پر سے گزرتا ہے۔اسی سڑک میں ایک زمیندار جاہل جو بادشاہ سے بالکل ناوقف ہے کھڑا ہے۔دوسرا وہ شخص ہے جو زمیندار ہے۔پر صرف اس قدر جانتا ہے کہ یہ کوئی بڑا آدمی ہے یا شاید حاکمِ وقت ہوگا۔تیسرا وہ شخص کھڑا ہے کہ وہ منجملہ اہالیان ریاست ہے اور خوب جانتا ہے کہ یہ بادشاہ ہے اور ہمارا حاکم ہے اور چوتھا وہ شخص کھڑا ہے جو بادشاہ کا درباری یا وزیر ہے۔اس کے آداب نہ قواعد و آئین و انتظام رعب و آداب۔رنج اور خوشی کے سب قواعد کا واقف اور جاننے والا ہے۔پس تم جان سکتے ہو کہ ان چاروں اشخاص پر بادشاہ کی سواری کا کیا اثر ہوا ہو گا۔پہلے شخص نے تو شاید اس کی طرف دیکھا بھی نہ ہو۔اور دوسرے نے کچھ توجّہ اس کی طرف کی ہو گی اور تیسرے نے ضرور اس کو سلام کیا ہو گا اور اس کا ادب بھی کیا ہو گا۔پر جو چوتھے شخص پر اس کے رُعب و جلال کا اس قدر اثر ہوا ہو گا کہ وہ کانپ گیا ہو گا کہ میرا بادشاہ آیا ہے۔کوئی حرکت مجھ سے ایسی نہ ہو جاوے جس سے یہ ناراض ہو جاوے۔غرض کہ اس پر ازحد اثر ہوا ہو گا۔پس یہی حال ہوتا ہے۔انبیاء اور مرسل علیھم السلام کا۔کیونکہ خوف اور لرزہ معرفت پر ہوتا ہے۔جس قدر معرفت زیادہ ہو گی۔اسی قدر اس کو خوف اور ڈر زیادہ ہو گا اور وہ معرفت اس کو خوف میں ڈالتی ہے اور اس لرزہ کے واسطے ان کو ظاہری سامان بھی کرنا پڑتا ہے۔یعنی موٹے اور گرام کپڑے پہننے پڑتے ہیں۔جو لرزہ میں مدد دیں۔جب وہ انعام کی حالت جاتی رہی تو ان کے اعضاء اور اندام