حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 247 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 247

تخصیص بشارت کا پتہ ہی نہیں دیا۔اور یوں ہی گول مول رہنے دیا۔(۳) صاحبِ حل الاشکال نے میزان میں۔فصل ۳۔باب ۲ میں لکھا ہے کہ پیدائش باب ۳۔۱۵ میں مسیح کی بشارت ہے۔پھر یہی یوحنا باب ۵۔۴۶ میں کیوں نہیں۔(۴) یوحنا باب ۱۔۲۰۔۲۵۔اور اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا۔بلکہ اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں تب انہوں نے اس سے پوچھا کہتو اور کون کیا تو الیاس ہے اس نے کہا میں نہیں ہوں۔پس آیا تُو وہ نبی ہے۔اس نے جواب دیا نہیں۔یوحنا انجیلی۔یوحنا بپٹسما دینے والے کی شہادت میں لکھتا ہے کہ نہ وہ مسیح ہے نہ ایلیا نہ وہ نبی اور ریفرنس میں وہ نبی کا نشان استثناء باب ۱۸۔۱۵و ۱۸ دیا ہے یعنی موسٰی کے مثل نبی۔اور وہ صرف نبی عربی ہے۔پادری عمادالدین نے ’’ تحقیق الایمان ‘‘ میں اور پادری ٹھا کر داس نے ’’ عدم ضرورت قرآن ‘‘ میں مماثلت پر گفتگو کی ہے اور بہت ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔جسے دیکھ کر ان کی ناکامیاب کوشسوں پر سخت افسوس آتا ہے پادری عمادالدین نے بچوں کا قتل۔چالیس دن کا روزہ۔معجزات اور شریعتِ روحانی ( معدوم الوجود) بمقابلۂ شریعتِ موسوی کے وجہ مماثلت ٹھہرائی ہے۔تعجب کی بات ہے۔کیونکہ موسٰیؑ کے وقت بچوں کا قتل ہوا ہی نہیں۔بلکہ فرعون نے حضرت موسٰیؑ سے پہلے نبی اسرائیل کی کثرت کے خوف سے یہ کارروائی کی تھی۔اور چالیس دن کا روزہ تو ایلیا نے بھی رکھا۔دیکھو اوّل سلاطین ۱۹ باب درس ۸۔رہے معجزات ایلیا نے بھی مردے زندہ کئے۔ں دیکھو اوّل سلاطین۱۷ باب ۲۲،۲۳۔ودوم سلاطین باب ۴۔۳۵۔ایلیا نے دریا کے دو حصّے کر کے زمین خشک نکالی اور دریا پار ہوا۔دیکھو دوم سلاطین باب ۲۔۸۔ایلیا نے دوسروں کو معجزات کے لائق بنایا دوم سلاطین باب ۲۔۱۰۔ایلیا جسم سے آسمان پر چلا گیا۔دوم سلاطین باب۲۔۱۱ ایلیا نے تیل کو بڑھایا۔دوم سلاطین باب ۴۔۳۔ایلیا کی روح سے الیشع نے کوڑھ اچھا کیا۔دوم سلاطین باب ۵۔۱۰،۱۵ (فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۲۴ تا صفحہ۳۶)۔۔ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔گواہ تم پر۔جیسا ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا۔پس فرعون نے اُس رسول کا کہا نہ مانا۔پھر ہم نے اس کو ہلاک کرنیوالی پکڑ سے پکڑا۔