حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 243
۔۔(الانفال: ۳۳۔۳۴) اور جب کہنے لگے کہ یا ﷲ اگر یہی دینِ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر برسا آسمان سے پتھر یا لا ہم پر دُکھ کی مار اور اﷲہرگز عذاب نہ کرتا ان کو جب تک تُو تھا اُن میں۔اس آیت میں یہ بات بتائی کہ تیرے یہاں ہوتے ہوئے یعنی مکّے میں وہ عذاب نہیں آئے گا۔۔۔(النمل:۷۲۔۷۳) اور کہتے ہیں کہ کب ہے یہ وعدہ۔اگر تم سچے ہو۔تو کہہ شاید تمہاری پیٹھ پر پہنچی ہو۔بعض چیز جس کی شتابی کرتے ہو۔س میں بتایا کہ یہ عذاب کچھ حصّہ اُس عذاب موعود کا ہو گا۔اور تمہاری تباہی اور استیصال کا شروع ہو گا۔۔۔(سبا:۳۰۔۳۱) اور کہتے ہیں۔کب ہے یہ وعدہ۔اگر تم سچّے ہو۔تو کہہ۔تم کو وعدہ ہے ایک دن کا۔نہ دیر کرو گے اُس سے ایک گھڑی۔نہ شتابی۔اس مقام پر آنحضرتؐ کا خط جو انہوں نے خیبر کے یہود کو لکھا نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے اس سے غرض یہ ہے کہ آپؐ بڑے استقلام اور قوی یقین سے مثلیت کا دعوٰی کرتے تھے۔اور آپ سے مخاطبین تعصّب اور حسد کے سوا انکار کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے تھے۔(ابن ہشام) مِنْ مُحَمَّدً رَسُوْلِ اﷲِ ( صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) صَاحِبِ مُوْسٰی وَاخِیْہِ وَ الْمُصَدِّقِ لِمَا جَائَ بِہٖ مُوْسٰی، اَلَا اِنَّ اﷲَ قَدْ قَالَ لَکُمْ یَامَعْشَرَ اَہْلِ التوراۃ! وَ اِنَّکُمْ لَتَجِدُوْنَ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِکُمْ۔مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ۔وَ اِنِّی اَنْسُدُکُمْ بِاﷲِ اَلَا اَخْبََرْ تُمُوْنِیْ ھَلْ تَجِدُوْنَ فِیْمَا اَنْزَلَ اﷲُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِمُحَمَّدٍ فَاِنْ کُنْتُمْ لَا تَجِدُوْنَ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِکُمْ فَلاَ اَکْدَہُ عَلَیْکُمْ قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ۔ترجمہ: محمدؐ رسول اﷲ کی طرف سے جو موسٰی کا مثیل اور اس کا بھائی اور اس کی تعلیمات کو سچا کر دکھانے والا ہے۔اے گروہ اہلِ تورات! دیکھو اﷲ تعالیٰ نے تمہیں فرمایا۔اور تم اس بات کو اپنی کتاب میں پاتے