حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 231
دوسرے یہ کہ ساری رات کپڑا اوڑھ کر سونے اور ایسی ہی حالت میں رات گزار دینے سے متنبّہ کرنا مقصود ہے۔کہ جس حالت میں کہ بارِ نبوّت کو اٹھانا آپؐ کا کام ہے تو لازم ہے کہ ساری رات خواب میں نہ گزارا جاوے بلکہ کچھ حصّہ رات کا دُعا اور نماز کے لئے بھی مخصوص کیا جاوے۔غرض کہ مزمّل کے لفظ میں تلطّف اور تنبّہ دونوں ہی مرکوز ہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍ مارچ ۱۹۱۲ء) ہماری سرکار حضرت محمد مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وسلم وحیٔ الہٰی کی عظمت اور جبروت کو دیکھ کر بہت گھبرائے بدن پر لرزہ تھا۔گھر میں تشریف لائے اور اپنی بی بی سے کہا۔دَثِّرُوْنِْ دَثِّرُوْنِیْ کہ میرے بدن پر کپڑا ڈھانک دو۔انہوں نے اوڑھائے۔اس حالت کا نّشہ کھینچ کر جنابِ الہٰی فرماتے ہیں کہ تمہارا کام سونے کا نہیں۔اٹھو اور نافرمان لوگوں کو ڈراؤ۔اور اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارے بیان میں خدا کی عظمت اور جبروت کا ذکر ہو۔اور قبل اس کے کہ دوسروں کو سمجھاؤ۔اپنے آپ کو بھی پاک و صاف بناؤ۔اس سورۃ میں یوں فرمایا۔کہ رات کو اٹھو۔مگر کچھ حصہ رات میں آرام بھی کرو۔رات کو قرآن شریف بڑے آرام سے پڑھو۔میری فطرت گواہی دیتی ہے۔کہ جب کسی عظیم الشان انسان کو کوئی حکم ا جاتا ہے اور اس میں کوئی خصوصیت بھی نہ ہو۔تو چھوٹے لوگ بطریق اولیٰ اس حکم کے محکوم ہو جاتے ہیں۔دنیا میں ایک وہ لوگ ہیں۔جو خود کپڑا پہننا نہیں جانتے۔وہ دوسروں کو لباس تقوٰی کیا پہنائیں گے۔پہلے لباس تو پہننا سیکھو۔جب شرمگاہوں کو دٍانک لو گے۔تو تم پر رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ کا حکم جاری ہو گا۔عام طور پر مسلمانوں کو یہ موقع ملا ہو اتو ہے۔مگر وہ اس کو ضائع کر دیتے ہیں۔مسلمان عشاء کے وقت سوتے ہی نہیں۔مگر اس کو بھی ضائع ہی کر دیتے ہیں۔اگر توبہ و استغفار کریں تو اچھا موقع ہے۔پھر اگر عشاء کے بعد ہی سو جائیں تو چار بجے ان کو تہجّد اور توبہ کا موقع مل جائے۔بڑے بڑے حکمِ الہٰی آتے ہیں۔مگر مزا ان میں تبھی آتا ہے۔جب ان پر عملدر آمد بھی ہو۔انگریزی خوان توتین تین بجے تک بھی نہیں سوتے۔پھر بھلا صبح کی نماز کے لئے کس طرح اُٹھ سکتے ہیں۔اور کپڑے پہننے والو! تم اتنا کام تو ہمارے لئے کرو کہ ہماری کتاب کے لئے کوئی وقت نکالو۔میرے بچے ۱؎ نے کہا کہ ہم کو لیمپ لے دو۔ہم رات کو پڑھا کریں گے۔مَیں نے اس کو بھی کہا کہ رات کو لیمپ کے سامنے پڑھنے کی ضرورت نہیں اس کے لئے دن ہی کافی ہوتا ہے۔رات کو قرآن شریف پڑھا کرو۔رات کو اگر تم جناب الہٰی کو یاد کیا کرو۔تو تمہاری رُوح کو جنابِ الہٰی سے بڑا تعلق ہو جائے۔مومن ۱ ؎ مراد میاں عبدالحی ہیں۔مرتّب