حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 230 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 230

سُوْرَۃَ الْمُزَّمِّلِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا ۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٗٗٗ مُزَمِّلُ’’ز‘‘ کی شدّ کے ساتھ اور بغیر شدّ دونوں طرح آیا ہے۔تَزَمُّلْ کے معنے کپڑے میں لپیٹنے کے ہیں۔زَمَّلْمُہٗ بِثَوْبِہٖ تَزْمِیْلاً فَتَزَمَّلَ مُزَمّل جب تبخفیف ’’ ز‘‘ پڑھ جاوے گا تو اس وقت معنے حمل اور بوجھ کے ہوں گے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو مُزَمِّلْ کے نام سے خطاب کرنے میں چند معافی ہیں۔ایک یہ کہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے ساتھ جو مہربانی اور تلطّف اﷲ تبارک و تعالیٰ کو تھا اس کا اظہار مقصود تھا۔جیسا کہ حصرت علیؓ کو ایک روز مسجد میں خاک پر لیٹے ہوئے دیکھ کر آپؐ نے ازراہِ مہربانی و تلطّف ان کویَا اَبَاتُرَاب فرمایا۔