حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 227 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 227

نہیں دے سکتا۔اور میرے لئے اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ ہے۔میرا کام تو صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۱۰۶)  اور جب اﷲ کا بندہ اس کی عبادت کے لئے اٹھا۔قریب تھا کہ اس پر ٹوٹ پڑتے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۱۰۲) : عبداﷲ پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو فرمایا۔منازلِ فلکی پر عروج کے وقت آپؐ اسی نام سے پکارے گئے۔(بنی اسرائیل:۲) نزولِ قرآنِ پاک کی شان کے وقت بھی آپؐ اسی نام سے پکارے گئے۔(الفرقان:۲) : کی ضمیر جنّؔ اور انس ؔ۔کفّار اور مومن سب کی طرف راجع ہو سکتی ہے۔لِبوَدٌ لَبْدَۃٌ کی جمع ہے۔اور لَبَدَہ کے معنے بعض کو بعض پر لپیٹنا۔لُبَد بضمَ اللّام و فتح البائِبھی قرأت ہے۔معنے یہ ہوئے۔کہ کفّار مشرکین قرآن سنانے کے وقت مخالفت پر آمادہ ہو کر نبی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور مومن مسلمین بھی اطاعت۔انقیاد اور حفظ کلام کی نیّت سے مسابقت کرتے ہیں۔جنّوں کی طرف بھی اسی اعتبار سے کَادُوْا کا مرجع ہو سکتا ہے۔: حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم جب عبادت میں مشغول ہوتے۔تو بہت سے لوگ آپؐ کے پاس جمع ہو جاتے۔انبیاء کا طریق کہ ہر ایک معاملہ میں نصیحت کا موقعہ نکال لیتے ہیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے ان لوگوں کو اس موقعہ پر بھی سمجھنا شروع کیا۔کہ تنا بڑا علم جو خدا نے مجھے دیااس واسطے ہے کہ مَیں موحّد ہوں۔سرک نہیں کرتا اور نمازوں میں دعائیں کرتا ہوں اور ان دعاؤں میں اﷲ تعالیٰ کو معبود سمجھ کر اس کی عبادت کرتا ہوں۔مگر تم ساتھ ہی شرک بھی کرتے ہو۔: فرمایا۔مَیں اتنا بڑا دعوٰی کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کا مجھے مکالمہ حاصل ہوتا ہے۔لیکن باوجود اس کے مَیں تمہارے نفع اور ضرر اور راہ نمائی کا مالک نہیں ہوں یہ آیت آنحضرتؐ کی سچائی کی بڑی گواہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍ مارچ ۱۹۱۲ء) ۲۵۔ ۔