حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 224
: رصدگاہیں۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کے زمانہ میں ستارے بہت گرے تھے۔رَصَدًا: تاک لگائے ہوئے انتظار میں لگے ہوئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍مارچ ۱۹۱۲ء) ۱۱۔ ۔یعنی ستاروں کے گرنے کو دیکھ کر وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ آیا زمین والوں کے لئے تباہی کا ارادہ کیا گیا یا ان کے ربّ نے انہیں کوئی فائدہ پہنچانا ہے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۲۰۱) : اَرَادَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ نہیں کہا۔۔کہا۔ میں ادب کو ملحوظ رکھا اور شر کو خدا کی طرف منسوب نہیں کیا۔حدیث میں بھی اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ بَیَدَیْکَ وَ الشَّرُّ لَیْسَ اِلَیْکَ۔آیا ہے۔رَشَدًا: میں رُشد کا ارادہ کرنے والا ربّ کو بتایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍مارچ ۱۹۱۲ء) ۱۴ تا ۱۶۔ ۔ ۔