حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 222 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 222

غور کرنے اس ان مفاسد اور مضارّ کی حقیقت بھی معلوم ہو جاتی ہے۔جو جنّوں سے منسوب کی جاتی ہے۔اب اس بیان کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں یہاں جو ذکر کیا گیا ہے۔اس سے کیا مراد ہے؟ یہ ایک تاریخی واقہ ہے۔نصیبین ایک بڑا آباد شہر تھا۔اور وہاں کے یہود جنّ کہلاتے تھے اور سوق عکّاظ (ایک تجارتی منڈی کا نام ہے ) میں آیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم مکّہ سے نا امید ہو کر طائف تشریف لے گئے اور وہاں کے شریروں نے آپ کو دُکھ دیا۔آپؐ عکّاظ کو آ رہے تھے۔راستہ میں بمقامِ نخلہ یہ لوگ آپؐ سے ملے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔قرآن مجید کو سُن کر وہ رقیق القلب ہو گئے۔سب کے سب ایمان لے آئے اور جا کر اپنی قوم کو بھی ہدایت کی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ جنوری ۱۹۱۲ء) ۳،۴۔۔ ۔اب جِنّات نے اِس قرآن کو قبول کرنے اور ایمان لانے کے دلائل بیان کئے۔جن میں سے پہلی دلیل یہی ہے کہ وہ توحید کا مذہب ہے۔: یہ دوسری دلیل ہے۔اور عیسائیوں کے اس صاحبہ اور ولد والے ناپاک عقیدہ کی نفی کرتے ہوئے قرآن شریف سے ماقبل تورات ہی کا ذکر کیا۔انجیل کا ذکر نہیں کیا۔فرمایا۔ولد تو صاحبہ کا نتیجہ ہے۔جب صاحبہ نہیں تو ولد کہاں سے آیا۔چوتھی صدی تک یہود عُزیرؑ کو ابن اﷲ کہتے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ جنوری ۱۹۱۲ء) ۵۔۔سَفَاھَۃ: موٹی سمجھ۔سفیہؔ موٹی عقل والا۔ں سفاھتؔ کے معنے اضطراب۔ضعیف الرائے ہونا۔: دروغ گوئی۔بڑھ بڑھ کر باتیں کرنا۔زیادتی کرنا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍مارچ ۱۹۱۲ء)