حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 219
یہ بہت خوفناک بات ہے۔( حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کے حق میں بددُعا کی۔مگر) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے باوجود سخت تکالیف اٹھانے کے کبھی اپنی قوم کے حق میں بد دعا نہیں کی۔بلکہ یہی دعا کرتے رہے۔کہ رَبِّ اھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْن--- ( اے میرے ربّ میری قوم کو ہدایت کر کیونکہ وہ نہیں جانتے۔حصرت نوحؑ کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا صبر۔حوصلہ۔رحم اور ہمدردی بہت بڑھی ہوئی ہے۔اور اسی کا نتیجہ ہے۔کہ آخر ساری قومِ عرب ہدایت یافتہ ہو گئی۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ جنوری ۱۹۱۲ء) بہت سے وجوہات ہیں جو ہم پر حمدِ الہٰی کو فرص ٹھیراتے ہیں۔منجملہ جنابِ الہٰی کی حمدوں کے یہ ہے کہ انسان کا حوصلہ ایسا وسیع نہیں کہ وہ ساری دنیا سے تعلق رکھے اور محبت کر سکے۔نبیوں اور رسولوں کو بھی جب تباہ کا سیہ روزگار شریروں نے دُکھ دیا تو آخر اُن میں سے ایک بول اُٹھا۔رَبِّ لَ تَذَرْ عَلَی الْاَزِضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا فی الحقیقت اُن پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ شریر نفوس کی حیاتی بھی پسند نہیں کرتے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔کہ انسان کا اتنا حوصلہ کہاں ہو سکتا ہے کہ سارے جہان سے اس کا مخلصانہ تعلق ہو۔پس اس سلسلہ کو وسیع کرنے کے باوجود محدود کرنے کے لئے نکاح کا ایک طریق ہے جس سے ایک خاندان اور قوم میں ان تعلقات کی بناء پر رشتۂ اخلاص اور محبت پیدا ہوتا ہے۔(الحکم ۲۶؍ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۲، بدر ۵ ؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۴) ۲۸۔ ۔اگر تُو چھوڑے تو یقینا بہکادیں گے تیرے بندوں کو۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۵۹)